امریکا-ایران جنگ بندی پر غیاث عبداللہ پراچہ نے پاکستان کی قیادت کی سفارتی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے نہ صرف عالمی امن کو تقویت ملی بلکہ تیل قیمتوں میں کمی سے عالمی معیشت کو بھی ریلیف حاصل ہوا۔
توانائی اور گیس کے شعبے کے معروف کاروباری رہنما غیاث عبداللہ پراچہ نے وزیرِاعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کو امریکا-ایران جنگ بندی کی یادگار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کو اس پیش رفت کا بنیادی سبب قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کو ممکنہ معاشی بحران سے بچانے کے لیے امن مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کیا، جس سے ملک عالمی سطح پر امن و استحکام کی ایک مضبوط بنیاد کے طور پر ابھرا ہے۔
انہوں نے قیادت کی دور اندیشی اور انتھک سفارتی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا، “ہم اپنے قائدین کی بصیرت افروز قیادت اور انتھک سفارت کاری کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے قوموں کے درمیان خلیج کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔”
غیاث پراچہ نے کہا کہ اس جنگ بندی کے فوری اثرات بھی سامنے آئے ہیں، جہاں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 22 امریکی ڈالر کمی نے عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا ریلیف فراہم کیا، جو بڑھتی ہوئی قیمتوں اور افراطِ زر کے دباؤ کا شکار تھی۔
ان کے مطابق یہ پیش رفت محض کشیدگی میں کمی نہیں بلکہ عالمی تیل و گیس تجارت میں مستقبل کی پیش رفت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، جس سے عالمی تجارتی راستوں کی بحالی، افراطِ زر میں کمی اور مالیاتی دباؤ میں نرمی متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم کی مؤثر حکمتِ عملی کے باعث پاکستان توانائی کے ممکنہ بحران سے محفوظ رہا، اور امید ظاہر کی کہ آئندہ مرحلے میں حکومت توانائی میں خود کفالت کو ترجیح دے گی۔
غیاث پراچہ کے مطابق اس مقصد کے لیے مقامی تیل و گیس پیداوار میں اضافہ، نقصانات میں کمی اور نئے اسٹریٹجک معاہدوں کو یقینی بنانا ناگزیر ہوگا، جس سے نہ صرف توانائی شعبہ بلکہ مجموعی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔
انہوں نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے ایک ذمہ دار اور مؤثر عالمی کردار کے طور پر اپنی اہمیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔

