389

مہنگی بجلی اور گردشی قرضے کے چیلنج سے نمٹنے کا جامع پلان وفاقی کابینہ میں پیش

پاور ڈویژن نے مہنگی بجلی اور گردشی قرضے کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے جامع پلان وفاقی کابینہ میں پیش کردیا ہے جس کے تحت سی پیک پاور پلانٹس کا 435ارب روپے پرنسپل قرضہ کی فوری ادائیگی کی بجائے آئندہ 13سال میں ادئیگی کی سفارش کردی گئی ہے۔ وفاقی حکومت 11آئی پی پیز کو 450ارب روپے کپیسٹی پے منٹ کی بجائے 150سے 200ارب روپے یکمشت ادا کرکے خریدلے۔ 5ہزار500میگاواٹ کے پاورپلانٹس درآمدی کوئلے کی بجائے تھرکول پرمنتقل کرنے سمیت کئی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ تمام ترحکومتی اقدامات کے باوجود گردشی قرضہ رواں سال جون تک 2ہزار587ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔وفاقی کابینہ نے عوام پر کم سے کم بجلی ٹیرف کا بوجھ ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی کابینہ نے وفاقی وزیر خزانہ اور معاون خصوصی برائے پاور وپیٹرولیم ڈویژن کو باہمی مشاورت کے بعد دوہفتوں میں حتمی رپورت جمع کروانے کی ہدایت کردی ہے۔
موصول دستاویز کے مطابق فرنس آئل سے چلنے والے 11آئی پی پیز غیر فعال ہیں ان آئی پی پیز کی پیداواری صلاحیت 3300میگاواٹ ہے۔ان آئی پی پیز کو صلاحیت کے مقابلے میں اوسط سالانہ صرف 5فیصد چلایا جارہا ہے جس پر 13روپے فی یونٹ فیول لاگت ہے۔ ان پاور پلانٹس کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں سالانہ 60ارب روپے ادا کئے جارہےہیں۔ ان آئی پی پیز کے ممکنہ حل کے حوالے سے تجاویز کے مطابق تیل سے چلنے والے آئی پی پیز کو پی آئی بی اور سکوک کے ذریعے ڈسکاؤنٹ قیمت(150ارب،200ارب) پر جلد خاتمے یا آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت بقیہ 7سال کیلئے مجموعی کیپیسٹی چارجز کی مد میں 450ارب روپے ادا کرنے کی تجویز دی گئی۔جس کے نتیجے میں صارفین کے ٹیرف سے60پیسے فی یونٹ ٹیرف کم کرنے میں مدد ملے گی۔نئی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو شامل کرنے کیلئے ہوا اور سورج کی روشنی سے چلنے والی آئی پی پیز کی ہائبرڈ ماڈل کے تحت نیلامی کی جائے گی۔کوئلے سے چلنے والے اضافی پاور پلانٹ تعمیر نہیں کیے جائیں گے اس لیے پہلے سے منظور شدہ اور زیر تعمیر 5500میگاواٹ د رآمد ی آئی پی پیز اور جامشورو1کو موجودہ تھر بلاک 1اور2کے کوئلے پر منتقل کیا جائے گا جس کے تحت صارفین کے ٹیرف میں ممکنہ کمی کی جا سکے گی۔ اس اقدام سے کوئلہ کی قیمت 50سے60ڈالر فی ٹن سے کم ہو 30ڈالر فی ٹن ہوجائےگی۔کوئلے کی قیمت کے موجودہ پرائسنگ فارمولے میں تبدیلی کیلئے حکومت سندھ کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے تاکہ ڈالر انڈکسیشن ختم کی جاسکے۔ ڈسکوز کے انتظامات کیلئے تین آپشن زیر غور ہیں۔جس میں ڈسکوز کا موجودہ نظام چلنے،نجی مینجمنٹ کنٹریکٹ اور پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت ڈسکوز کو صوبوں کے سپرد کرنے کے آپشن پر غور جاری ہے۔وزیر اعظم کی جانب سے گزشتہ دور حکومت کے دوران سائیوال میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کی تنصیب کی توجیح پر سوال اٹھائے گئے۔وزیر اعظم کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے ملک میں بجلی کی طلب میں اضافہ کیوں ظاہر کیا گیا۔جس پر مشیر پیٹرولیم کی جانب سے جواب دیا گیا کہ بندرگاہوں کے ذریعے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی منتقلی پر کافی لاگت آئی جس کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی جا سکتی۔گزشتہ حکومت کی جانب سے مالی فوائد حاصل کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ پاور پلانٹس کی تنصیب کی اجازت دی گئی۔ کابینہ رکن کی جانب سے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ چینی سولز پینل تیار کرنے والی کمپنیاں مقررہ سولر پینل کی خریداری کی شرط پر پاکستان میں منتقل ہونے کو تیار ہیں۔رکن کی جانب سے بلوچستان میں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل کے منصوبے کے حوالے سے چینی پیشکش قبول کرنے کی تجویز دی گئی۔وزیر خزانہ کی جانب سے گردشی قرضہ کے مینجمنٹ پلان پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔وزیر خزانہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ٹیرف میں مزید اضافے سے بجلی کی طلب میں کمی واقع ہوسکتی ہے جس کے باعث گردشی قرضے پر مزید منفی اثرات پڑنے کا اندیشہ ہے۔ٹیرف میں اضافے سے مہنگائی میں پسے عوام میں حکومت کیلئے منفی جذبات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں