ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں خطرناک اضافہ ہوا ہے، جن میں سے 83 فیصد خلیجی ممالک جبکہ صرف 17 فیصد اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا، جس سے خطے میں کشیدگی میں نمایاں شدت آ گئی ہے۔
سعودی پریس ایجینسی سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 4,391 میزائل اور ڈرون داغے گئے، جن میں سے اکثریت �گلف کواپریشن کونسل ممالک پر حملوں کی صورت میں سامنے آئی، جبکہ اسرائیل پر 930 حملے کیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں اہم انفراسٹرکچر اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جو علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس تنازع کے آغاز سے اب تک سعودی عرب پر 723 میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں۔
جبکہ یو اے ای پر پر 2,156، بحرین پر 429، کویت پر 791، قطر پر 270 جبکہ عمان پر 22 حملے کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ خلیجی فضائی دفاعی نظاموں نے ان حملوں کو ناکام بنانے میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا اور خطے کے لیے ایک مضبوط دفاعی ڈھال ثابت ہوئے۔
خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ ان پر ہونے والے حملے بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
ایک مشترکہ بیان میں قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور اردن نے کہا کہ ایران کے حالیہ حملے ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، خواہ یہ براہِ راست کیے گئے ہوں یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں۔

