430

پانی کے معاملے پر ارسا کا ردعمل

کو گريٹر تھل کينال کے معاملہ پر کسی صوبے سے بھی زيادتی نہيں ھو رھی ھے۔

درياوں ميں پانی کی کمی کے باعث کچھ دن پانی کی کمی کا سامنہ رھا ليکن اب صورتحال کنٹرول ميں ھے۔
ارسا کا کہنا ھے کہ سب صوبوں کو واٹر اکارڈ کے تحت پانی تقسيم کيا جا رھا ھے
سندھ کو کپاس کی کاشت کے وقت پنجاب سے زيادہ پانی فراہم کيا ۔ اب تک سندھ کو صرف 4 فيصد پانی کی کمی ھوئی جب کہ پنجاب کو 16 فيصد پانی کی کمی رھی۔ اب جنوبی پنجاب کو کپاس کے لئے پانی کی فراہمی کی جا رہی ہے اور سب صوبوں کو ان کے حصہ کے مطابق پانی ريا جا رہا ہے۔
تونسہ پنجند لنک کينال پر کوئی پاور ہاؤس لگانے کا منصوبہ ارسا ميں زير غور نہيں۔
ارسا کا کہنا ھے کہ چشمہ جہلم لنک کينال سے پنجاب کو گريٹر تھل کينال کے لئے پانی فراہم کيا جا رہا ہے۔اورارسا کسی صوبہ کا پانی کا حصہ کم نہيں کر سکتی۔ ہر صوبہ کا نمائندہ ارسا ميں موجود ہے اس کے بغير پانی کی تقسيم طے نہيں کی جا سکتی۔
چاول کی کا شت کے وقت بھی انشااللہ صوبوں کو ان کے حصہ کے مطابق پانی فراہم کيا جائے گا اس وقت ايک ملين ايکڑ فيٹ پانی ڈيموں ميں موجود ہے۔
ارسا بلوچستان کو اس کو پورا حصہ فراہم کر رہا ہے ليکن سندھ بلوچستان کے حصہ کا بھی پانی خود استعمال کر رہا ہے اور بلوچستان کو 61 فيصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔
سندھ پانی کے اعدادوشمار بھی غلط فراہم کر رہا ہے اور لائين لاسز بڑھا کر بتا رہا ہے۔
اس وقت سندھ کو 71,000 کيوسک پانی فراہم کيا جا رہا ہے ۔ارسا
ارسا نے اب تک 7 لاکھ ايکڑ فيٹ پانی سندھ کو منگلہ ڈيم سے بھی فراہم کيا۔
سندھ اب تک 46000 ايکڑ فٹ پانی سمندر ميں بہا چکا ہے۔ارسا
کراچی کو پانی کی فراہمی ميں ارسا کا کوئی کردار نہيں يہ سندھ کا اندرونی معاملہ ہے۔
صوبہ سندھ کو اب تک 2.5 ملين ايکڑ فٹ پانی فراہم کيا جا چکا ہے خريف سيزن ميں ۔
چشمہ جہلم لنک کينال اور تونسہ پنجند لنک کينال پر کوئی تنازعہ نہيں ان نہروں ميں پنجاب اپنے حصہ کا پانی ارسا کی اجازت سے ليتا ہے ۔
ايک خالصتاً تکنيکی معاملہ کو سياسی بنايا جا رہا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں