472

وفاقی حکومت کیلئے کرتار پور راہداری منصوبہ بڑا چیلنج بن گیا ؟

وفاقی حکومت کیلئے 10 ارب روپے سے زائد لاگت سے تعمیر کیا گیا کرتار پور راہداری منصوبہ بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

وزیر قانون کی مخالفت کے باعث وفاقی کابینہ نے کرتارپور راہداری منصوبے کو پیپرا رولز سے استشنی دینے سے انکار کردیا ہے۔ پیپرا بورڈ کی جانب سے استشنی کی سفارش کے بعد وفاقی کابینہ منظوری دینے کی مجاز ہے۔ منصوبہ تعمیر ہونے کے باعث پیپرا پہلے ہی وزارت مذہبی امور کی سفارش مسترد کرچکا ہے۔ وزیراعظم عمران کی ہدایت پر کرتارپور راہداری منصوبہ پیپرا رولز کے مطابق ٹینڈر کئے بغیر تعمیر کیا گیا۔پیپرا کو بائی پاس کرنے کے نتیجے میں کابینہ ارکان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے اپنے وسائل سے دربار کرتارپور منصوبے کو مکمل کیا گیا۔

پیپرا رولز کا تنازع کھڑا ہونے کے باعث فنانس ڈویژن نے تاحال فنڈز روک رکھے ہیں۔وفاقی کابینہ نے دوبارہ معاملہ پیپرا بورڈ کو بھجوانے کی ہدایت کردی۔حکومت کو قانونی مشکلات اور نیب کاروائی سے بچانے کیلئے پیپرا بورڈ ممبران کو قائل کیا جائے گا۔

موصول دستاویز کے مطابق وزارت مذہبی امور نے وفاقی کابینہ سے اربوں روپے کی لاگت سے دربار کرتاپور مکمل ہونے کے بعد منصوبے کو پیپرا رولز سےاستشنی دینے کی سفارش کی تھی۔پیپرا بورڈ کی جانب سے دربار کرتارپور کی تعمیر، فعال سوگرمیوں اور افتتاح کی سرگرمیوں کے پہلےسے مکمل ہونے کے باعث منصوبے پر پیپرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 21 کے تحت درخواست مسترد کی جاچکی ہے. پیپرا بورڈ کیجانب سے وزارت مذہبی امور کو پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کے رول 42 d iii کے تحت ٹیندرنگ کا مشورہ دیا گیا تھا۔وزارتمذہبی امور کی جانب سے سے رولز آف بزنس 1973 کے رول16 k کے تحت استشنی اور دربارکرتارپور راہداری منصوبے کیلئے کیگئی خریداری کی توثیق کیلئے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کی گئی۔

دربار کرتارپور موجودہ حکومت کا اہم منصوبہ ہے جس کے اسٹریٹیجک مقاصد ہیں. وزیراعظم کی جانب سے 9 نومبر 2019 تک منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں، صوبائی حکومت اور وزارتوں کو ذمہ داریاں سونپی گئیں.منصوبے کو پیپرا رولزسے مستشنا قرار دینے کیلئے وزیراعظم کی جانب سے وزارت مذہبی امور، ایف ڈبلیو او اور پیپرا کو مشترکہ طور پر زمہ داری سونپی گئی. اس معاملے پر چیئرمین پیپرا کو براہ راست ہدایات بھی دی گئیں۔

وزارت مذہبی امور کی جانب سے پیپرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن21 کے تحت استشنا کیلئے کابینہ ڈویژن کے ذریعے 28 اگست 2019 کو ریفرنس دائر کیا گیا.۔پیپرا بورڈ کے فیصلے میں دربار کرتارپورمنصوبے کی اسٹریٹیجک اہمیت اور جلد تکمیل کے معاملے کو زیر غور نہیں لایا گیا جس کے باعث ٹیندرنگ نہیں کی. گئی۔

وزارتمذہبی امور کی جانب سے کابینہ ڈویژن سے درخواست کی گئی کہ پیپرا پر استشنی کے حوالے سے ذمہ داری پوری کرنے کیلئے دباؤ ڈالاجائے تاہم کابینہ ڈویژن کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ پیپرا کی رائے قانونی فریم ورک کے عین مطابق ہے اور وزارت مذہبیامور کو اس رائے کی پابندی کرنی چاہیے اور ضرورت کے پیش نظر معاملے کو وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔وزارتمذہبی امور کی جانب سے وفاقی کابینہ کے سامنے معاملے کو پیش کرنے کیلئے 11 نومبر 2020 کو وزیراعظم کو سمری ارسال کی گئی. وزیراعظم آفس کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ وزیر مذہبی امور کے پاس معاملے کو سمری کے ذریعے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کااختیار حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں