449

نیپرا نے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے دو آئی پی پیز اے ای ایس لعل پیر اور پاک جن کے معاہدوں میں ترمیم کا نوٹس لے لیا

نیپرا نے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی سے دونوں پاور پلانٹس کی لوڈ پوزیشن،سیٹلمنٹ ایگریمنٹ،نیشنل پاور کنٹرول سنٹر کے کمنٹس، معاہدوں میں ترمیم کی منظوری دینے والی سی پی پی اے کی اتھارٹی،عبوری لوڈنگ کی اجازت اور معاہدوں میں ترمیم سے صارفین پر ممکنہ اثرات کی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔سابق ایم ڈی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپییچ کمپنی ڈاکٹر خواجہ رفعت نے معاہدہ میں ترمیم کو خلاف ضابطہ اورعوام پر 15ارب روپے سالانہ بوجھ قرار دیا تھا جبکہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے قومی خزانے کو 19ارب روپے کی بچت کا دعوی کیا ہے۔ سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی ڈاکٹر خواجہ رفعت نے بطور سی پی پی اے بورڈ ممبر معاہدوں میں ترمیم کی سمری پر دستخط کئے۔ سی پی پی اے نے معاہدے میں ترمیم سے قبل نیشنل پاور کنٹرول سنٹر کی سسٹم پر ٹیکنیکل اثرات کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد تمام سٹیک ہولڈرز کیساتھ مطلوبہ قانونی اور مالی مشاورت نہیں کی۔ سابق جنرل منیجر سسٹم آپریشن محمد ایوب نے صرف آپریشنل کمنٹس دئیے جبکہ پاور پرچیز ایگریمنٹ میں ترمیم سے کبھی اتفاق نہیں کیا۔ جی ایم ایس او نے تمام سٹیک ہولڈرز کیساتھ بھرپورمشاورت کی سفارش کی تھی۔ آپریشنل کمنٹس سے قبل خودمختار کنسلٹنٹ سے سٹڈی کروائی گئی۔ کنسلٹنٹ کی رپورٹ پر این ٹی ڈی سی انجینرز سے مشاورت کے بعد سی پی پی اے کو رائے دی گئی۔ سی پی پی اے نے وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر معاہدوں میں ترمیم کو وسیع تر قومی مفاد سے تشبہیہ دیدی ہے۔ نیپرا معاملے کا حتمی فیصلہ کرے گی۔

موصول دستاویز کےمطابق سی پی پی اے نے اے ای ایس لعل پیر اور پاک جن پاور پلانٹس کی خلاف ضابطہ کم ازکم لوڈنگ 20فیصد سے بڑھا 50فیصد کردی گئی ہے۔ کم ازکم لوڈنگ بڑھنے سے اے ایس لعل پیر اور پاک جن سے فرنس آئل پر بجلی کی خریداری کو لازم کردیا گیا ہے۔سابق ایم ڈی ڈاکٹر خواجہ رفعت نے اپنے خط میں موقف اختیار کیا تھا کہ کم سے کم لوڈنگ 20فیصد سے بڑھا کر 50فیصد کرنے سے صارفین کے ٹیرف میں اضافے کے ساتھ ساتھ سستے کوئلے،سولر،گیس اور نیوکلیئر پلانٹس کی پیداوار میں کمی ہوگی جبکہ گردشی قرضے میں اضافہ ہوجائے گا۔

فروری1998اور نومبر1999میں 362میگاواٹ کے مہنگے فرنس آئل سے چلنے والے پلانٹس کی تعمیر کیلئے اے ای ایس لال پیر اور پاک جین کے درمیان1994کی پاور پالیسی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کے بعد معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ سی پی پی اے نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس اقدام سے قومی خزانے کو 19ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے۔ اس ترمیم کے بعد دونوں پاور پلانٹس کے مالکان کو عالمی عدالت کے فیصلوں کے مطابق 19ارب روپے ادا نہیں کرنے پڑیں گے۔ دونوں پاور پلانٹس کے معاہدوں میں ترمیم سے گردشی قرضے میں 10ارب روپے کی کمی ہوگی۔ سودکی ادائیگی میں تاخیرپر مزید سود کی ادائیگی بھی نہیں کرنا پڑے گی۔

سابق ایم ڈی ڈاکٹر خواجہ رفعت نے موقف اپنایا ہے کہ سی پی پی اے یہ معاملہ بورڈ میں لانے کی بجائے انتہائی عجلت میں سرکولیشن کے ذریعے منظور کروایا۔ جب انہوں نے سمری پر دستخط کردئیے تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ اس اقدام سے قومی خزانے اور بجلی صارفین پر 15ارب روپے سالانہ کا بوجھ پڑے گا جس کے باعث انہوں نے نیپرا سمیت متعلقہ اداروں کو خط لکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں