وفاقی کابینہ کی ہدایت پر اسلام آباد کے سیکٹر ای 8 اور ای نائن کے اطراف میں گرین بیلٹس اور عوامی راستوں پر موجود 90فیصد تجاوزات ختم کردی گئیں ہیں۔ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کی جانب سے خیابان اقبال سیکٹر ای 8اور ای9کے اطراف گرین بیلٹ کی بحالی کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔کھڑی کی گئی رکاٹوں اور گرین بیلٹ پر غیر منظور شدہ پارکنگ ختم کرکے سیکٹر ای 8 کی حدود میں متبادل پارکنگ ایریا قائم کردیا گیاہے۔پاک فضائیہ کی جانب سے سیکٹر ای9میں وفاقی کابینہ کی ہدایات کے پیش نظر پیفسام تجارتی سرگرمیوں کو 31دسمبر2020سے روک دیا گیا ہے۔اسلام آباد میں گذشتہ 10سالوں کے دوران 1960سے 2010کے برابر تعمیرات ہوئیں جس کے باعث گرین بیلٹس میں کمی واقع ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حکومتی ادارے کو عوامی راستے اور گرین بیلٹ پر تجاوزات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
موصول دستاویز کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد کی جانب سے وفاقی کابینہ کو سیکٹر ای 8اور ای9مارگلہ روڈ پر تجاوزات کے حوالے سے بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سی ڈی اے کی جانب سے سیکٹر ای 8اور ای9کو 1974اور1989کو پاکستان نیوی اور پاکستان ایئر فورس کیلئے مختص کیا گیا۔2007سے ان سیکٹرز کی حفاظت کیلئے سکیورٹی کے ضروری ساز و سامان میں اضافہ کیا گیاجو کہ بعد میں گرین بیلٹ تک پھیل گیا۔سی ڈی اے کی جانب سے ستمبر2020میں مارگلہ روڈ کے اطراف گرین بیلٹ پر تجاوزات کے حوالے سے وزارت دفاع سے رجوع کیا گیا۔ وفاقی کابینہ کی ہدایت پر این ڈی یو کی طرف جانے والی ڈبل روڈ کورکاوٹیں ہٹا کر کھول دیا گیا ہے۔سیکٹر ای8میں سکیورٹی کے سامان کی منتقلی کا مرحلہ جاری ہے۔1130میں 1020جرسی بیریئرز کو اصل فینس لائن پر منتقل کیا جا چکا ہے۔مجموعی طور پر90فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ بقیہ کام جولائی کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔وفاقی کابینہ کی جانب سے سی ڈی اے کو گرین بیلٹ سے تجاوزات ہٹانے اور ٹریفک کا بہاؤ بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس کے دوران کابینہ کے رکن کی جانب سے غیر قانونی طور پر تعمیر نیوی سیلنگ کلب اور نیول گالف کورس کی طرف سے تجاوزات کے معاملے پر سوال اٹھایا گیا۔چیئرمین سی ڈی اے کی جانب سے جواب دیا گیا کہ نیوی سیلنگ کلب کو سیل کیا جا چکا ہے جبکہ نیول گالف کورس پر تجاوزات کے حوالے سے نیو ل حکام سے بات چیت جار ی ہے۔اسلام آباد کلب کی جانب سے سپورٹس کمپلیکس کے ساتھ مبینہ تجاوزات کے حوالے نشاندہی پر سیکرٹری کابینہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ سکیورٹی بیریئر کلب کی حدود کے اندر واقع ہے جس کی سی ڈی اے کی جانب سے منظوری دی گئی ہے۔وفاقی کابینہ کی جانب سے جاری کاموں کے حوالے سے اگلے کابینہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے اور سی ڈی اے کو گرین بیلٹ کی ہر قیمت پر حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔وفاقی کابینہ کی ہدایات کے پیش نظرسی ڈی اے کی جانب سے ابتدائی طور پر پاکستان نیوی اور پاکستان ایئر فورس کے ہیڈ کوارٹر ز سے رابطہ کیا گیا۔معاملے کے حل کیلئے وزارت دفاع سے بھی رجوع کیا گیا۔جس کے بعد وزارت دفاع میں سیکرٹری دفاع کی زیر صدارت اجلاس منعقد کیا گیا۔جس کے بعد سی ڈی اے اور متعلقہ ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جگہ کو مشترکہ سروے کے بعد وفاقی کابینہ کی ہدایات پر عملدر آمد شروع کر دیا گیا۔سیکٹرای9میں بورڈ آف آفیسرکو مکمل کرکے کیپیٹل ورکس پروگرام میں منظوری کیلئے بجھوایا جا چکا ہے۔مالی سال2021-22میں بجٹ کی منظوری کے بعد منصوبہ 6سے8ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔خیابان اقبال کے شمال کی طرف گرین بیلٹ کی بحالی کیلئے کام کا آغاز کیا گیا ہے۔سبزے کو یقینی بنانے کیلئے پانی کی فراہمی کیلئے سپرنکلر سسٹم نصب کیا گیا ہے۔پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کی جانب سے 10ہزار چھوٹے پودے کاشت کیے گئے ہیں۔ریڈ بیڈ سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کیلئے98فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔4ریڈ بیڈ سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ جلد تعمیر کر لیے جائیں گے جس سے یومیہ ساڑھے 4لاکھ گیلن پانی صاف کیا جکا سکے گا۔شائین چوک پر انڈر پاس،فلائی اوور کی تعمیر کے حوالے سے پی سی ون کی منظوری دی جا چکی ہے جس پر تین ماہ کے دوران کام کا آغاز کیا جائے گا۔

