331

عمران خان اور بیانیہ

تجزیہ!
اظہر بلوچ

یہ کہ جیسے جیسے عمران خان اپنے بیانیے پر پکے قائم ہوتے جارہے ہیں ویسے ویسے وہ ہماری ریاست کے بیانیے اور ملکی سیاست اور خطہ کی سیاست سے دور ہوتے جائیں گے جو کہ میرے خیال میں اُن کے لیے اور ملک پاکستان کے لئے یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اسطرح پاکستان کے ایک مخلص سیاستدان کو محرومیوں و ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

سابق وزیراعظم کا امریکہ مخالف بیانیہ ایسے ہے جیسا کہ محلہ کی چند عورتیں ملکر کمیٹی ڈالتی ہیں اور کمیٹی کی سرپنچ اپنی پہلی کمیٹی لینے کے بعد شور مچا دیتی ہے کہ کمیٹی ٹوٹ گئی کمیٹی ٹوٹ گئی۔ پاکستان نے امریکہ کے زیر اثر مالیتی اداروں کے کم از کم اسی ہزار ارب روپے دینا ہیں ۔ اور ہماری تجارت امریکہ یورپ اور اُس کے اتحادی عرب کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔ ہم امریکہ سے بھیک نہ بھی مانگیں اور نہ ہمیں بھیک لینا چاہئیے ہمیں ایک خود مخیتار قوم کی طرح جینا ہے۔ اگر امریکہ یورپ ہم سے تجارتی معالات سے علیحدگی کر لیتے ہیں تو ہمارے ایکسپوٹرز کا کیا بنے گا۔ہمارے ۹۸ فیصد معاملات امریکہ یورپ اور انُ کے اتحادیوں کے ساتھ جڑُے ہوئے ہیں۔ آپکو امریکہ کو خدا خافظ کرنے سے پہلے ایک قوم بننا ہوگا اور اغیار سے امیدیں کم کرنا ہوگی اور اپنی خارجہ پالیسیز پر نظر ثانی کر کے نئی راہیں تلاش کرنا ہو نگی۔

اسطرح نہیں جسطرح کی زبان ہماری خارجہ معاملات میں استعمال کی جارہی ہے اُس سے ملک کی خدمت نہیں بلکہ وہ ملک دشمنی کے مترادف ہے۔

امریکہ مخالف بیانیہ چھ دہائیوں سے جماعت اسلامی کا نہیں چل سکا۔ جسکا واضح ثبوت یہ ہے اس جماعت کے نمائندگان اسمبلیوں میں پہنچ ہی نہیں پاتے۔ جماعت اسلامی سٹریٹ پولیٹکس میں اور سیاسی کارکنان کے اعتبار سے بہت مظبوط رہی ہے اور آج بھی اسی طرح مضبوط ہے ۔ لیکن امریکہ مردہ باد والا چورن اُن کا بھی کبھی نہیں بک پایا۔

یہ کہ عمران خان کا بیانیہ عوامی ہمدردی کے اعتبار سے تو بڑا زبردست ہے لیکن وہ اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کر رہے ہیں جو کہ ان کے حق میں کسی طور پر اچھا نہیں ہے۔
یہ کہ عمران خان کے خلاف ماضی میں کوئی ایک بھی عدالتی فیصلہ نہیں آیا لیکن ایوان کے معاملے پر سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا وہ بھی آئین اور قانون کے مطابق تھا اور یقینا اس پر ڈیڈ لاک تھا۔اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہی اور انہوں نے کوشش کی کہ اپنا جھکاو کسی ایک پارٹی کی طرف نہ دیکھایا جائے۔

میری اطلاعات کے مطابق ہے کہ عمران خان کے کہنے پر ہی اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کے لیے گئی جبکہ اپوزیشن نے ان کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا ۔ میرا یہ کہنا ہے کہ اگر عمران خان نے اداروں کو اپنے خلاف کر لیا تو میرے خیال میں یہ اچھی حکمت عملی نہیں ہو گی اور اگر انہوں نے یہ روش نہ چھوڑی تو پھر وہ دوبارہ اقتدار میں نہیں آ سکیں گے۔

یہ درست ہے کہ عمران خان موجودہ حکومت کے لیے زبردست مشکلات تو ڈالیں گے جیسے انہوں نے استعفیٰ دے کر بحران پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اسی طرح وہ جلسے جلوس مزید اور بھی کریں گے اور کوشش کریں گے کہ بحرانی صورتحال کو جاری رکھ سکیں تاکہ جلد الیکشن ہو سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ جوں جوں عمران خان اپنے بیانیے پر پکے ہوتے جائیں گے توں توں وہ ہماری ریاست کے بیانیے سے دور ہوتے جائیں گے جو کہ ان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

عدالت رات کو بارہ بجے کیوں لگی اس کا مختصر جواب صرف یہ ہے کہ اس سے ہماری جمہوریت مضبوط ہوئی ہے اس پر کبھی کھل کر لکھوں گا۔

تجزیہ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں