خواجہ مظہرِ صدیقی – ملتان
” ڈاکٹر صاحبہ ! آپ نے ایف سی پی ایس کا امتحان دینا تھا وہ کیوں نہیں دیا؟” میں نے کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ کی ایک ایم بی بی ایس لیڈی ڈاکٹر سے سوال کیا۔
وہ بولیں ،” جب امتحانات کے دن آئے تو والدہ محترمہ کو انہی دنوں کورونا ہو گیا تھا۔ والد صاحب اکیلے تھے۔ میرے امتحانات سے زیادہ ضروری چیز میرے ماں باپ تھے۔ والدین ہمیں اس لیے تھوڑی اعلی تعلیم دلاتے ہیں کہ ہم بڑھاپے میں ان کو اکیلا چھوڑ دیں۔ میں امتحانات بعد میں دے دوں گی لیکن والدہ محترمہ کی خدمت کا موقع تو پھر نہیں ملے گا ۔”
میں نے عرض کیا ” پروفیسر صاحبہ ! آپ نے زندگی بھر شادی کیوں نہیں کی؟ ”
وہ کہنے لگیں ،” میں اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ بڑے بہن بھائیوں کی شادی ہو گئی ۔ بھائی اپنی فیملی لے کر بیرون ملک منتقل ہو گئے اور ایک بہن دوسرے شہر سسرال میں رہتی ہیں ، والدین بوڑھے تھے اور اکیلے ہو گئے تھے ، مجھے اچھا نہیں لگتا تھا کہ میں ان کو اکیلا چھوڑ دوں ۔ ما شا ء اللہ وہ حیات ہیں اور مجھے ان کی خدمت سے خوشی ہوتی ہے اور کبھی اس بات کا دکھ نہیں ہوا کہ میں نے شادی نہیں کی ۔”
میری بی کام میں کلاس فیلو نجمہ صاحبہ جو اب بینکار ہیں۔ وہ بتا رہی تھیں کہ ” میں نے اپنی شادی کے لیے اس شخص کا انتخاب کیا کہ جس کے والدین نہ ہوں اور وہ مجھے جہاں رکھے ،وہاں میرے بوڑھے والدین بھی ساتھ رہیں۔ میری مراد پوری ہوئی۔ میں والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ میرے خاوند ،میرے دونوں بچے اور میں مل کر ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان سے دعائیں لیتے ہیں ۔ ”

