207

وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہوگئے، پرویز الٰہی نے کل 186 ووٹ حاصل کئے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا اور ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر سبطین خان کی زیر صدارت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا ، سپیکر نے اراکین کو ایوان میں بلانے کے لیے گھنٹیاں بجائیں اور پھر اجلاس 12 بج کر 5 منٹ تک ملتوی کر کے قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دوبارہ اجلاس شروع کیا۔

سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے حکومت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور سینئر وزیر راجہ بشارت اور میاں اسلم اقبال کے نام پکار کر انہیں قرار داد پیش کرنے کی ہدایت کی، اسلم اقبال اور راجہ بشارت نے اعتماد کے ووٹ کیلئے قرارداد سپیکر اسمبلی کو پڑھ کر سنائی، سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے اعتماد کے ووٹ سے متعلق ارکان کو طریقہ کار بتایا جس کے بعد حکومتی ارکان نے لابی میں جا کر ووٹ کاسٹ کیا جبکہ اپوزیشن اراکین اجلاس کا واک آؤٹ کر کے ایوان سے باہر چلے گئے۔

اپوزیشن ارکان کی جانب سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کی گئی اور ارکان نے کرسیاں اٹھا کر ڈائس پر ماریں، رائے شماری کے مرحلے کے دوران ارکان نے شدید احتجاج اور حکومت کیخلاف نعرے بازی بھی کی۔

اس موقع پر سپیکر سبطین خان نے کہا کہ رولز کے مطابق ایوان کی کارروائی چلا رہا ہوں، کسی کوبھی اندرآنےکی اجازت نہ دی جائے، جوپرویزالہٰی کوووٹ دیناچاہتےہیں وہ ارکان لابی میں چلےجائیں۔

ووٹنگ میں اتحادی حکومت کے 186 اراکین نے پرویز الہیٰ پر اعتماد کا اظہار کیا جبکہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد گنتی ہوئی اور سپیکر سبطین خان نے چوہدری پرویز الہیٰ کی کامیابی کا اعلان کیا۔
بعدازاں پنجاب اسمبلی کا اجلاس 23 جنوری دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ اعتماد کا ووٹ دینے پر میں پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کے لوگوں سمیت مجلس وحدت المسلمین اور بلال وڑائچ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

مسلم لیگ (ن) والوں نے پچھلے ایک ماہ سے شور کیا ہوا تھا، یہ بارات لے کر آئے تھے ان کی ڈولی اور جھولی خالی ہو گئی ہے ، اب ن لیگ رائے ونڈ کے ایک کونے کی جماعت رہ گئی ہے، ن لیگ نے بے چارے گورنر کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑا ،ان کی اپنی تو عزت ہے ہی نہیں اور اس شریف آدمی کی عزت بھی خاک میں ملا دی ،میں ان سے کہتا ہوں اب دلیر بنو، شکست کو تسلیم کرو،لیکن انہوں نے یہاں لیٹنا شروع کر دیا ہے۔

وزیر اعلی ٰ نے کہا کہ ہماری جو وکلا کی ٹیم ہے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ، ساری لیگل ٹیم نے محنت کی ، عدالت میں ثابت کیا کہ گورنر کا آرڈر غیر قانونی ہے، اللہ نے کرم کیا اور 186 ووٹ سامنے آئے ہیں ، آج ن لیگ کو صحیح طور پر سرپرائز ملا ہے ان کو اندازہ نہیں تھا آج کیا ہونا ہے ، کئی روز سے ماڈل ٹاؤن کے لیڈر نے ان کو ساتھ ملایا ہوا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں