خواجہ مظہر صدیقی
میں دفتر میں کچھ فائلیں کھولے ہمہ تن گوش بیٹھا تھا کہ اچانک میرا سیل فون بج اٹھا۔ دوسری طرف میری بھابھی تھیں، انہوں نے اطلاع دی کہ محمد سیڑھیوں سے گر کر زخمی ہو گیا ہے ۔ جلدی سے گھر آ جاؤ۔
محمد میرا بھتیجا ہے ، سات آٹھ سال کا ہوگا۔ میں اسی وقت دفتر سے گاڑی نکال کر سیدھا گھر پہنچا ،محمد کے دائیں ٹخنے پر چوٹ آئی تھی۔ اس نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا تھا ۔
ہم نے اسے کار کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا اور شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال لے ائے ۔ میرا کہنا ہے کہ آپ کو جب کبھی ایمرجنسی پیش آئے تو مریض کو پرائیویٹ اسپتال کے بجائے سرکاری اسپتال کی ایمرجنسی میں لے جانا ہی درست آپشن ہوتا ہے بنسبت پرائیویٹ اسپتال کے ۔
ابھی ہم ایمرجنسی یونٹ کے دروازے تک پہنچے تھے اور محمد کو سٹریچر پر ڈال رہے تھے کہ ایک اجنبی نوجوان نے مجھے بہت اپنائیت سے میرے نام سے پکارا اور محمد کے بارے میں دریافت کرنے لگا ۔ میں نے اسے بتایا کہ سیڑھیوں سے گر گیا ہے اور ٹخنے پر چوٹ آئی ہے ۔
اس نے کہا ،اچھا کیا جو آپ اسے فوراً اسپتال لے آئے ہیں ۔ میں آپ کی مدد کرتا ہوں اور سرجیکل یونٹ کی ایمرجنسی تک آپ کے ساتھ چلتا ہوں ۔ ابھی اتنی ہی بات ہوئی تھی کہ وہاں کھڑے سیکورٹی گارڈ نے مجھے حکم دیا کہ کار کو پارکنگ سٹینڈ پر کھڑی کر آئیں ۔ میں فوری طور پر کار پارک کرنے چلا گیا اور بھابھی سٹریچر کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی وارڈ میں چلی گئیں ۔ وہ اجنبی نوجوان بھی ہمراہ تھا
میں کار پارکنگ میں کھڑی کرنے کے بعد جب سرجیکل یونٹ میں گیا تو وہاں بھابھی اور محمد موجود نہ تھے۔ میں پریشان ہو گیا ۔ میرے پسینے چھوٹ گئے ، بھاگ کر ساتھ والے کمروں میں جھانکا ۔ وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔ پریشانی بڑھ گئی۔ مجھے پارکنگ میں سات آٹھ منٹ ہی لگے ہوں گے ، پھر یہ کہاں چلے گئے؟ ۔
کچھ دیر بعد مجھے خالی سٹریچر مل گیا جس پر سرجیکل یونٹ ایمرجنسی وارڈ ٹو لکھا ہوا تھا ۔ یہ وہی سٹریچر تھا جس پر محمد کو لٹایا گیا تھا ۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا اس سٹریچر پر ایک بچہ لایا گیا تھا وہ بچہ اور اس کی مما کہاں گئے۔ ان کے بتانے پر میں نے سکھ کا سانس لیا اور بالائی منزل پر ایکسرے روم کی طرف دوڑا۔
ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحب نے تجویز کیا تھا کہ بچے کے پہلے ایکسرے کروالے جائیں۔ میں ایکسرے روم پر پہنچا تو وہاں طویل قطار تھی۔ بھابھی ایک طرف کھڑی ہوئی نظر آ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوان لڑکے نے قطار میں کھڑے ہونے کے بجائے کاؤنٹر پر پرچی بنانے والے آدمی کو کسی ڈاکٹر کا نام بتایا تو ہماری باری پہلے آ گئی وہ لڑکا اندر محمد کے ایکسرے کروا رہا تھا ۔۔ اسی اثناء میں وہ لڑکا باہر آیا اور مجھے ایک سائڈ پر لے جا کر کہا ،ایکسرے کی فیس 350 روپے ہے۔ وہ دے دیجئے ، میں نے جیب سے بٹوہ نکال کر اس میں سے ایک ہزار روپے کا نوٹ اسے دے دیا ۔ ایک ہزار روپے کا نوٹ دیکھ کر اس نے کہا۔ یہ تو میرے پاس بھی ہے لیکن کاؤنٹر والے کے پاس ایک ہزار روپے کھلے نہیں ہیں ۔ چلیں میں نیچے سے کھلے کروا کر ابھی آتا ہوں ۔
کچھ دیر بعد دروازے پر کھڑے شخص نے آواز لگائی ، محمد کے ساتھ کون ہے؟ ۔ میں اندر چلا گیا ۔ محمد کے ایکسرے ہو چکے تھے ۔ ٹیکنیشن نے مجھے ایکسرے دیے اور 350 روپے فیس کے مانگے ۔ میں نے کہا ،لڑکا کھلے کروانے گیا ہے ،ابھی آتا ہے ۔ وہ کرخت آواز سے بولے ، مجھے دیجئے کتنے کھلے پیسے چاہئیں؟ ۔ میں نے فوراً ایک ہزار کا نوٹ بٹوے سے نکال کر ان کے ہاتھ میں تھما دیا ۔ انہوں نے بھی مجھے باقی پیسے دے دیئے۔ میں نے محمد کو کندھے پر اٹھایا اور کمرے سے نکل کر باہر اس لڑکے کا انتظار کرنے لگا۔ بیس منٹ تک وہ نہ آیا ۔ میں سیڑھیوں سے اتر کر دوبارہ سرجیکل یونٹ میں آ گیا ۔ ڈاکٹر صاحب نے ایکسرے دیکھ کر تسلی دی کہ کوئی فریکچر نہیں ہے۔ بس پاؤں سوج گیا ہے ۔ انہوں نے دو سیرپ تجویز کیے اور بتایا کہ تین چار دن میں آرام آ جائے گا ۔
ہم اسپتال سے ڈسچارج ہونے لگے تو مجھے خیال آیا کہ دوبارہ اوپر جا کر اس نوجوان کو ڈھونڈوں ۔ میں دوبارہ اوپر کی منزل پر پہنچا، وہ کہیں نظر نہ آیا ۔ میں نے بھابھی سے محمد کو لیا اور ہم کار پارکنگ کی طرف بڑھ گئے ، “مظہر ! اس لڑکے کو ڈھونڈ کر اسے کوئی انعام دے دو جس نے ہمارے ساتھ تعاون کیا تھا” ۔ بھابھی نے مجھے مشورہ دیا ۔ اب میں بھابھی کو کیا بتاتا کہ وہ ہمارے ساتھ فراڈ کر گیا ہے ۔ میں نے شروع میں سوچ لیا تھا کہ اسے ایک ہزار روپے دے دوں گا ۔ وہ جائز طریقے سے نہیں بلکہ ناجائز طریقے اپنا انعام لے گیا تھا۔

