240

آزمائشوں کا سفر ، نیکی کا آخری امتحان

خواجہ مظہر صدیقی

اگر آپ بہت دکھی ، غم زدہ اور پریشان ہیں تو ذرا دیر کے لیے کسی نزدیکی کورٹ یعنی کچہری میں چلے جائیں ۔ وہاں آئے سائلین میں سے کسی ایک کی کہانی سن لیں ۔اپ کو لگے گا کہ دنیا بھر کا دکھی انسان یہی ہے ۔ اور وہاں دو تین لوگوں سے پوچھ لیں کہ وہ یہاں کیسے آئے ہیں؟ اور کب سے ا رہے ہیں؟ تو میں پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ خدا کی قسم ! آپ کو اپنا دکھ بھول جائے گا۔ آپ کو اپنی پریشانی بہت چھوٹی لگے گی۔ آپ غم اور افسوس کی نئی تعریف سے آشنا ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ پھر کبھی اپنے غموں کا کسی سے تذکرہ بھی نہ کریں۔

اگر آپ کو نا شکری کا مرض لاحق ہے ۔ نعمتوں ، سہولتوں اور آسائشوں کی کمی کا سامنا ہے ۔ آپ خود کو بہت سی نعمتوں سے محروم سمجھتے ہیں ۔ اکثر و بیشتر احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو ایسے میں میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ پلیز آپ کسی دن دو چار گھنٹوں کے لیے اپنے قریب کے کسی بڑے سرکاری ہسپتال میں چلے جائیں ۔ وہاں جا کر آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ کتنے لوگ ہیں جو بستر سے نیچے قدم نہیں رکھ سکتے اور یہاں تک کہ واش روم نہیں جا سکتے ۔ جسم بے سُدھ ہوئے ہیں ، ہاتھ پاؤں حرکت نہیں کرتے۔ کوئی قومے میں ہیں تو کسی کی ٹانگ ٹوٹی ہے یا بازو کندھے سے جدا ہے۔ کوئی مِرگی کا مریض ہے تو کسی کا جسم الرجی سے بھرا پڑا ہے۔ کسی کا جبڑا ٹوٹا ہے تو کسی کو پیشاب کی اور کسی کو غذا کی نالی لگ گئی ہے ۔ کسی کی آنکھوں میں بینائی نہیں تو کسی کو کان ہونے کے باوجود سنائی نہیں دیتا۔ کسی کے حلق سے غذا اندر تک نہیں جا رہی۔اور کوئی فالج کا سامنا کر رہا ہے۔ کوئی پیدائشی معذور ہے تو کوئی پولیو یا ٹریفک حادثے کے باعث ہمیشہ کے لیے معذوری کا شکار ہے۔ کسی کے آپریشن پر آپریشن ہو رہے ہیں لیکن شفایابی نہیں مل رہی ۔ کسی کے پاس علاج معالجے کے لیے رقم نہیں ہے اور کسی کے لیے سانس لینا دشوار ہو رہا ہے ۔ بیماری پر لاکھوں خرچ ہو چکے ہیں لیکن مرض ہے کہ جان نہیں چھوڑ رہا۔

بہت سوں کے دل ، گردے اور جگر ناکارہ ہوئے پڑے ہیں ۔ کوئی کینسر ، ڈائیلسز اور ہیپاٹائٹس سے زندگی کو گھٹتا محسوس کر رہا ہے ۔ کسی کے مرض کی تشخیص نہیں ہو رہی۔ لوگ ایسی ایسی بیماریاں بھگت رہے ہیں جن کے نام بھی آپ کو معلوم نہیں ہوں گے۔ مجھے قوی یقین ہے کہ آپ ہسپتال کے وزٹ کے دوران ہی ناشکری کے فیز سے نکل آئیں گے اور توبہ تائب ہو جائیں گے اور پھر کبھی آپ کے ذہن میں ناشکری کا خیال نہیں آئے گا بلکہ آپ نا شکرے پن سے متعلق سوچیں گے بھی نہیں ۔

اگر آپ زندگی سے بیزار اور اوازار ہو چکے ہیں ۔ زندگی بوجھ محسوس ہو رہی ہے ۔ زندگی کے رنگ پھیکے پڑ چکے ہیں ۔ زندگی بے معنی اور بے مقصد لگنے لگی ہے ۔ حالات یہاں تک کہ مایوسی اور نا امیدی غالب آ چکی ہے اور آپ مزید جینا نہیں چاہتے تو پھر میرا آپ کو مشورہ ہے کہ کوئی وقت نکال کر کسی بڑی جیل کا وزٹ کر آئیں اور وہاں سزا بھگتنے والے کچھ قیدیوں سے ملاقات کر آئیں یا جیل کے باہر قیدیوں سے ملاقات کے لیے آئے لواحقین کی حالت زار کو اپنی آنکھوں سے براہ راست دیکھ آئیں۔ یقین کریں کہ آپ کو وہاں ایسی دردناک ، ہولناک اور وحشت ناک سبق آموز کہانیاں سننے کو ملیں گی جو کسی کتاب یا ڈائجسٹ میں پڑھنے کو نہیں ملی ہوں گے۔ وہاں جیل کے باہر اور اندر درد ، تکلیف ، بے حسی ، بے بسی اور بے رحمی کے مناظر دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے ۔ سفاکیت اور مظلومیت ، افسوس اور پچھتاوا یہ سب کچھ آپ کی زندگی سے متعلق بے زاری کو ختم کر دے گا۔

اگر آپ کی تمنائیں ، آرزوئیں اور خواہشات پوری نہیں ہو رہیں۔ انسانی رویے آپ کو تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں ۔ آپ سمجھتے ہیں کہ میری کوئی نہیں سنتا اور میں ادھوری خواہشوں اور امیدوں کے ساتھ ہی مر جاؤں گا ۔ آپ کی دوسروں سے وابستہ توقعات بھی کبھی پوری نہیں ہوئیں ۔ اور آپ خواہشات کے پورا نہ ہونے پر دل برداشتہ ہو چکے ہیں تو پلیز پلیز صرف ایک دفعہ سارے کام ترک کر کے ، سب کچھ چھوڑ کر کچھ وقت کے لیے اپنے قریب کے کسی قبرستان سے ہو آئیں۔ زیارات قبور سے آپ کو احساس ہو جائے گا کہ اس گورستان میں سیکڑوں اور ہزاروں افراد اپنی خواہشات کے ساتھ دو تین گز کی قبروں میں مدفون ہیں۔ کتنی بڑی بڑی آرزوؤں اور حسرتوں کے مالک تھے جو زیر زمین چلے گئے اور منوں مٹی تلے سو رہے ہیں اور اپنے عزیزوں کو سوگوار کر گئے۔ دستیاب نعمتوں ، سہولیات اور آسانیوں کے باوجود موت کے گھاٹ اتر گئے ۔ فرشتہ اجل نے انہیں مہلت ہی نہ دی۔ وہ حسرتیں اور آرزوئیں سینے میں لیے قبر کا رزق بن گئے ۔۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ فوری طور پر خواہشات کے اسیر بن کر جینا چھوڑ دیں گے ۔ آپ کو لگے گا کہ میں خوامخواہ خواہشات کی تکمیل کے لیے ہلکان ہوتا رہا۔ میں آج کے بعد ضرورتوں کے پورا ہو جانے پر مطمئن اور آسودہ رہوں گا ۔ اسی کا نام زندگی ہے اسی کا نام قناعت اور توکل ہے۔ یہی اصل میں زندگی کا حسن اور لطف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں