113

او جی ڈی سی نے سوغری نارتھ کنویں سے کمرشل گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار شروع کر دی

پاکستان کی مقامی توانائی پیداوار کو تقویت دینے کے لیے آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ) نے ضلع اٹک کے سوغری بلاک میں واقع سوغری نارتھ کنویں نمبر 1 سے قدرتی گیس اور کنڈینسیٹ کی کمرشل پیداوار کا آغاز کر دیا ہے۔

او جی ڈی سی کے مطابق، یہ کنواں روزانہ 14 ایم ایم ایس سی ایف ڈی (MMSCFD) گیس اور 430 بیرل یومیہ (BPD) کنڈینسیٹ پیدا کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کو مقامی ہائیڈرو کاربن کے کم ہوتے ذخائر اور مہنگی درآمدی ایل این جی (LNG) پر بڑھتی ہوئی انحصار کے باعث شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

کنویں سے پیداوار کو قومی گیس نیٹ ورک میں شامل کرنے کے لیے او جی ڈی سی نے 8 انچ قطر کی 14 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی ہے، جو براہِ راست دکنی پلانٹ سے منسلک ہے۔ یہاں گیس کو پروسیس کرنے کے بعد سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں شامل کیا جا رہا ہے، جس سے صنعتی اور گھریلو صارفین کو فوری سپلائی ممکن ہو گئی ہے۔

سوغری نارتھ کی دریافت کا باضابطہ اعلان 17 مارچ 2025 کو کیا گیا تھا، جسے پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ OGDC اس بلاک کی واحد آپریٹر ہے اور اس میں اس کا 100 فیصد ورکنگ انٹرسٹ ہے۔ کمپنی نے اس منصوبے کو جلد از جلد کمرشلائز کر کے ملک کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کو ترجیح دی ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ سنگ میل او جی ڈی سسی ایل اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم مقامی پیداوار میں تیزی لاتے ہوئے درآمدی انحصار کو کم کریں گے اور پائیدار قومی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔”

اگرچہ سوغری نارتھ کی پیداوار پاکستان کی مجموعی طلب کے مقابلے میں محدود ہے، لیکن یہ اس وقت قیمتی اضافی سپلائی فراہم کرتی ہے جب ملک کو گیس کی قلت کا سامنا ہے، جس نے صنعتوں کو متاثر کیا اور مہنگی درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھا دیا ہے۔

پاکستان کی مقامی گیس پیداوار گزشتہ دہائی کے دوران نمایاں کمی کا شکار ہوئی ہے، جو 2010 میں تقریباً 4,200 ایم ایم ایس سی ایف ڈی سے کم ہو کر 2025 میں 3,000 ایم ایم ایس سی ایف ڈی سے بھی نیچے آ گئی ہے۔ اس کمی نے طلب اور رسد کے درمیان فرق کو وسیع کر دیا ہے۔ ایسے منصوبے اس فرق کو کم کرنے اور قومی توانائی نظام پر دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

او جی ڈی سسی ایل واضح کیا کہ یہ منصوبہ اس بات کا عملی مظاہرہ ہے کہ کس طرح بروقت انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے ذریعے نئی دریافتوں کو تیزی سے قومی نیٹ ورک میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

یہ پیش رفت OGDC کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت کمپنی نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں نئے ذخائر کی تلاش کے لیے سیسمک سروے اور ڈرلنگ پر سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے تاکہ ملک کے غیر دریافت شدہ ہائیڈروکاربن پوٹینشل کو اجاگر کیا جا سکے۔

کمپنی کے مطابق،
“ہماری ترجیح یہ ہے کہ پاکستان کے گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے توانائی کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنائیں اور وسائل کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے مقامی پیداوار کو بڑھائیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں