21

پمز نرسری آتشزدگی: وزیراعظم کا 8 افسران معطل، فوجداری کارروائی کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی جانب سے ذمہ دار قرار دیے گئے 8 افسران کو فوری معطل کرنے اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم نے یہ فیصلہ پمز آتشزدگی کے واقعے پر اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جس میں انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی۔

وزیراعظم نے واضح ہدایت کی کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف صرف محکمانہ کارروائی کافی نہیں بلکہ متعلقہ قوانین کے تحت فوجداری کارروائی بھی کی جائے اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔

انکوائری کمیٹی کی جانب سے ذمہ دار قرار دیے گئے افراد میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر وارث علی رضا، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغمہ، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، پمز سیکیورٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔

وزیراعظم نے پمز میں تعینات سیکیورٹی کمپنی اور اس کے متعلقہ حکام کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی۔

اجلاس میں انکشاف ہوا کہ پمز میں آگ لگنے یا دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا مخصوص تربیت موجود نہیں تھی۔ اسپتال کے 13 ایس او پیز میں سے صرف دو ذیلی حصوں میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر موجود تھا۔

تحقیقات کے مطابق واقعے کے وقت نگران عملہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔ وارڈ میں صرف دو نرسیں، ایک خاتون سیکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ آگ صرف دو منٹ کے اندر پورے وارڈ میں پھیل گئی، جبکہ فائر لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی اور ابتدائی امدادی ٹیم 15 منٹ بعد موقع پر پہنچی۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم نصب نہیں تھا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی میں، یعنی اس واقعے سے صرف ایک ماہ قبل، پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آگ لگی تھی، تاہم اس کے باوجود اسپتال میں فائر سیفٹی بہتر بنانے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

بریفنگ کے مطابق نوزائیدہ بچوں کا وارڈ عالمی ادارہ صحت کی متعلقہ ضروریات کی بھی خلاف ورزی کر رہا تھا، جبکہ اسپتال میں آگ یا دیگر ہنگامی صورتحال کے لیے کوئی باقاعدہ افسر مقرر نہیں تھا۔ یہ ذمہ داری ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی ڈیوٹی کے طور پر دی گئی تھی۔

اجلاس کو اسپتال کی خستہ حالی اور انتظامی بدانتظامی کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کی اور کہا کہ رپورٹ وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

وزیراعظم نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بچے کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے ستارۂ خدمت دینے کی منظوری بھی دی، جبکہ انہیں ایک کروڑ روپے کا نقد انعام بھی دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین اور وارڈ میں موجود خاتون سیکیورٹی گارڈ کو آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی تعینات کرنے اور مزید تحقیقات جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی ہدایت کی اور خالی ہونے والے تمام عہدوں پر فوری طور پر نئی تعیناتیاں کرنے کا حکم دیا۔

وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور دیگر ارکان کو تحقیقات مکمل کرکے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں