4

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پٹرول 5 روپے 45 پیسے اور ڈیزل 3 روپے 68 پیسے سستا

اسلام آباد: حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 45 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 68 پیسے فی لیٹر کمی کر دی ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 369 روپے 6 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 391 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 4 نومبر 2026 کے لیے ہوگا۔

اوگرا کے مطابق پٹرول کی ایکس ڈپو قیمت 374 روپے 51 پیسے سے کم کرکے 369 روپے 6 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 395 روپے 20 پیسے سے کم ہو کر 391 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے موٹر سائیکل سواروں، نجی گاڑیوں کے مالکان اور رکشہ ڈرائیوروں کو کچھ مالی ریلیف ملنے کی توقع ہے، جو روزمرہ آمدورفت کے لیے پٹرول پر انحصار کرتے ہیں۔

پٹرول کی قیمت میں کمی سے متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، کیونکہ موٹر سائیکل پاکستان میں ملازمت پیشہ افراد، طلبہ اور چھوٹے کاروباری طبقے کے لیے آمدورفت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

نئی قیمت کے مطابق 20 لیٹر پٹرول خریدنے والے صارفین کو پہلے کے مقابلے میں 109 روپے جبکہ 40 لیٹر پٹرول خریدنے والوں کو 218 روپے کی بچت ہوگی۔

دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کمی کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ ڈیزل مال بردار گاڑیوں، بسوں، ٹرکوں، ٹریلرز اور دیگر بھاری تجارتی گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

ملک بھر میں اشیائے ضروریہ، زرعی پیداوار، صنعتی خام مال اور دیگر سامان کی ترسیل بڑی حد تک ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس لیے ڈیزل کی قیمت میں کمی سے مال برداری کے اخراجات میں کمی آنے کا امکان ہے۔

زرعی شعبہ بھی ڈیزل کی قیمت میں کمی سے مستفید ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹریکٹر، ہارویسٹر، ٹیوب ویل اور دیگر زرعی مشینری چلانے کے لیے ڈیزل استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح کاشتکاروں کو زمین کی تیاری، آبپاشی اور فصلوں کی کٹائی کے اخراجات میں کچھ ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں کمی سے ٹرانسپورٹ کمپنیوں، مال بردار گاڑیوں کے مالکان اور دیگر کاروباری اداروں کے آپریشنل اخراجات بھی کم ہو سکتے ہیں۔

تاہم، ڈیزل سستا ہونے کے باوجود اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، مال برداری کے کرایوں اور مسافر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری کمی یقینی نہیں ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ٹرانسپورٹرز، سپلائرز اور کاروباری ادارے ایندھن کے کم اخراجات کا فائدہ صارفین تک کس حد تک منتقل کرتے ہیں۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ کمی سے جہاں عام صارفین کو براہ راست ریلیف ملے گا، وہیں زراعت، ٹرانسپورٹ اور کاروباری شعبوں کو بھی اخراجات میں کمی کا ممکنہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں