4

پی ایل ایل نے موسم سرما کے لیے ایل این جی کے دو کارگوز کی درآمدی بولیاں طلب کر لیں

اسلام آباد: پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے موسم سرما میں گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دسمبر 2026 اور جنوری 2027 میں ایل این جی کے دو کارگوز کی خریداری کے لیے عالمی سپلائرز سے بولیاں طلب کر لی ہیں۔

پی ایل ایل کے جاری کردہ ٹینڈر کے مطابق پہلا ایل این جی کارگو 14 سے 16 دسمبر 2026 کے دوران جبکہ دوسرا کارگو 9 سے 11 جنوری 2027 کے دوران پاکستان پہنچایا جائے گا۔ ہر کارگو کی مقدار ایک لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر مقرر کی گئی ہے، جس میں پانچ فیصد کمی یا اضافے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

سرکاری کمپنی نے عالمی ایل این جی سپلائرز سے ڈیلیورڈ ایکس شپ (DES) کی بنیاد پر بولیاں طلب کی ہیں، جبکہ دونوں کارگوز کی ترسیل کراچی کی بندرگاہ پورٹ قاسم پر کی جائے گی۔

ٹینڈر کے مطابق بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 6 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ الیکٹرانک بولیاں اسی روز دوپہر 2 بجے تک جمع کرائی جا سکیں گی، جبکہ بولیاں دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر کھولی جائیں گی۔

ٹینڈر نمبر PLL/IMP/LNGT80 کے تحت بولی کے تفصیلی دستاویزات، شرائط و ضوابط اور تکنیکی تقاضے حکومت کے ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (EPADS) ورژن 2.0 پر دستیاب ہیں۔ بولی کے عمل میں حصہ لینے کے لیے سپلائرز کو نئے الیکٹرانک پروکیورمنٹ سسٹم پر رجسٹریشن کرانا ہوگی، جبکہ دستی طور پر جمع کرائی جانے والی بولیاں قبول نہیں کی جائیں گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان موسم سرما میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ سردیوں کے دوران بالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گھریلو صارفین کی گیس کی کھپت بڑھ جاتی ہے، جس سے ملک کے گیس سپلائی اور تقسیم کے نظام پر دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

عالمی ایل این جی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور بعض معاہدوں کے تحت طے شدہ ایل این جی کارگوز کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث اضافی گیس کی دستیابی بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ایسے حالات میں مناسب قیمتوں پر بروقت ایل این جی کارگوز کا حصول ملک کی موسم سرما کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم ہوگا۔

حکومت کو گھریلو صارفین کے ساتھ بجلی پیدا کرنے والے پاور سیکٹر اور گیس پر انحصار کرنے والی صنعتوں کی ضروریات میں بھی توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ ایل این جی کی خریداری میں تاخیر یا عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے سے موسم سرما میں گیس کی فراہمی کے انتظامات متاثر ہونے کے ساتھ درآمدی گیس کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔

تاہم پی ایل ایل کی جانب سے ٹینڈر جاری کرنے کا مطلب دونوں کارگوز کی خریداری کا حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ ان کی خریداری کا انحصار عالمی سپلائرز کی جانب سے موصول ہونے والی بولیوں، پیش کردہ قیمتوں اور مسابقتی بولی کے عمل کے نتائج پر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں