23

22.98 روپے فی یونٹ بجلی پیکیج پر نظرثانی کا امکان، اضافی لاگت کا بوجھ عام صارفین پر

اسلام آباد: صنعتی و زرعی صارفین کے لیے 22.98 روپے فی یونٹ کے انکریمنٹل بجلی پیکیج پر نظرثانی کا امکان پیدا ہوگیا، کیونکہ اضافی بجلی کی معمولی لاگت مقررہ نرخ سے کہیں بڑھ گئی، جس کا فرق دیگر صارفین برداشت کر رہے ہیں۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پیر کو پاور ڈویژن کی جانب سے صنعتی اور نجی زرعی صارفین کے لیے انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج پر نظرثانی کی درخواست پر عوامی سماعت کی۔

یہ پیکیج ایکس ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صنعتی اور نجی زرعی صارفین پر لاگو ہے جبکہ ٹائم آف یوز (ToU) اور نان ٹائم آف یوز دونوں صارفین کے لیے چوٹی اور آف پیک اوقات میں اضافی بجلی کی کھپت کو شامل کرتا ہے۔

پاور ڈویژن نے سماعت کے دوران بتایا کہ 22.98 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ کا مقررہ نرخ شدید دباؤ میں آگیا ہے، کیونکہ کئی ماہ کے دوران اضافی بجلی کی معمولی لاگت پیکیج نرخ سے بڑھ گئی۔

پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر سے مئی تک اضافی بجلی کی وزنی اوسط معمولی لاگت 27.58 روپے فی یونٹ رہی، جو پیکیج نرخ سے نمایاں زیادہ ہے۔ ترسیلی اور تقسیمی نقصانات شامل کرنے کے بعد یہ لاگت 31.83 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔

اپریل اور مئی میں لاگت کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔ اپریل میں اوسط معمولی لاگت 36.71 روپے اور مئی میں 33.98 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ نقصانات شامل کرنے کے بعد یہ بالترتیب 42.37 روپے اور 39.22 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔

یوں اپریل میں نقصانات سمیت معمولی لاگت پیکیج نرخ سے 19.39 روپے فی یونٹ جبکہ مئی میں 16.24 روپے فی یونٹ زیادہ رہی۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ پیکیج نرخ اور زیادہ معمولی لاگت کے درمیان فرق، ریگولیٹر کی منظوری تک، دیگر بجلی صارفین برداشت کر رہے ہیں، جس سے پیکیج سے فائدہ نہ اٹھانے والے صارفین پر اضافی کراس سبسڈی کا بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔

پیکیج میں بجلی کی کھپت میں اضافے سے متعلق حفاظتی شق بھی شامل ہے، جس کے تحت صنعتی اور زرعی بجلی کی مشترکہ کھپت بنیادی سطح سے 25 فیصد سے زیادہ بڑھنے پر نظرثانی ضروری ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری، فروری اور اپریل میں بجلی کی کھپت میں اضافہ مقررہ حد سے تجاوز کرگیا اور بالترتیب 25.13 فیصد، 26.20 فیصد اور 34.81 فیصد رہا، جبکہ دیگر مہینوں میں اضافہ 25 فیصد کی حد سے کم رہا۔

پیکیج کے تحت ششماہی جائزے کا طریقہ کار بھی موجود ہے، جس کا مقصد لاگت اور آمدن میں توازن برقرار رکھنا اور ضرورت پڑنے پر معمولی نرخ میں ردوبدل کرنا ہے۔

پیکیج کی شق کے مطابق اگر مسلسل دو جائزوں میں نرخ میں اضافہ ضروری قرار پائے تو اسکیم ختم کی جانی ہے۔

وزارت توانائی، پاور ڈویژن کو جون 2026 کے پہلے ہفتے میں اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مطلوبہ معلومات فراہم کرنا تھیں، تاہم خام ڈیٹا 29 جولائی کو نیپرا کو فراہم کیا گیا۔

اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نیپرا کی جانب سے تجویز طلب کیے جانے پر پاور ڈویژن نے 9 ستمبر کو جواب دیتے ہوئے ریگولیٹر سے معاملے پر کارروائی کرنے کی درخواست کی۔

پیش کردہ معلومات کے مطابق چھ ماہ کی وزنی اوسط معمولی شرح تقریباً 32 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ دوسرے جائزہ دور کے چار ماہ پہلے ہی گزر چکے ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ آیا پیکیج میں نظرثانی کی جائے یا اسے معطل کردیا جائے۔

صارفین کے مختلف زمروں کے لیے مؤثر بریک ایون نرخ بھی 22.98 روپے کے موجودہ پیکیج نرخ سے نمایاں زیادہ رہے۔ بی ون چوٹی کے صارفین کے لیے یہ نرخ 31.15 روپے، بی ٹو ٹائم آف یوز کے لیے 29.05 روپے، بی تھری کے لیے 30.03 روپے، بی فور کے لیے 29.62 روپے جبکہ بی فائیو کے لیے 32.91 روپے فی یونٹ رہا۔

یوں ریگولیٹر کے سامنے پیش کیے گئے تمام صارف زمروں میں مؤثر بریک ایون نرخ موجودہ 22.98 روپے فی یونٹ پیکیج نرخ سے زیادہ رہا۔

سماعت کے دوران مداخلت کار ریحان جاوید نے پیکیج نرخ کو جون 2026 سے حقیقی معمولی لاگت کے مطابق کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے جون سے پیکیج سے مستفید نہ ہونے والے صارفین سے وصول کیے گئے معمولی لاگت کے فرق کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا اور تجویز دی کہ یہ رقم نظرثانی شدہ نرخ پر پیکیج سے مستفید ہونے والے صارفین سے وصول کی جائے جبکہ باقی رقم حکومت پاکستان سے، بطور اسکیم اسپانسر، حاصل کی جائے۔

ایک اور مداخلت کار امیر شیخ نے پیکیج کے کراس سبسڈی اثرات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے گھریلو اور کمرشل صارفین پر بوجھ بڑھ رہا ہے جبکہ صنعت کے بڑے حصے کی جانب سے صارفین کے ایک محدود گروپ کو بالواسطہ سبسڈی دی جا رہی ہے۔

امیر شیخ نے گیس لیوی کے نفاذ اور کیپٹو پاور صارفین کی قومی گرڈ پر منتقلی کے بعد بھی اس پیکیج کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک طرف لوڈشیڈنگ جاری رکھنا اور دوسری جانب صنعتی و زرعی صارفین کو کم نرخ پر بجلی فراہم کرنا باہم متضاد ہے اور پیکیج معطل کرنا ہی منصفانہ فیصلہ ہوگا۔

اب نیپرا یہ تعین کرے گا کہ آیا 22.98 روپے فی یونٹ کا موجودہ نرخ اضافی بجلی کی فراہمی کی لاگت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں، اور آیا پیکیج میں نظرثانی کی جائے یا اس کی شرائط کے تحت اسے معطل یا ختم کردیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں