اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کی تشکیل نو کرتے ہوئے وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ کو چیئرمین کے عہدے سے ہٹا کر کمیٹی کی رکنیت سے بھی خارج کر دیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کو کمیٹی کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔
کابینہ ڈویژن کی 20 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اطلاع کے مطابق وزیراعظم نے کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کی نئی تشکیل کی منظوری دی ہے، جس کے تحت وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کو کمیٹی کا شریک چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے دیگر ارکان میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ اور وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی شامل ہیں، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) ڈویژن کمیٹی کے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کی تشکیل نو کی ہے۔ یہ حکم 4 اپریل 2025 کو جاری کیے گئے سابقہ نوٹیفکیشن کی جگہ لے گا اور رولز آف بزنس 1973 کے رول 17(2) کے تحت جاری کیا گیا ہے۔
کمیٹی کو آسان کاروبار ایکٹ پر عمل درآمد کے لیے قوانین اور ضابطوں میں اصلاحات کا جائزہ لینے اور ان کی منظوری دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کا مقصد کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل غیر ضروری قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی قانون پر عمل درآمد کے لیے قائم کردہ ’’ریگولیٹری گیلوٹین‘‘ کے عمل کا جائزہ لے گی اور اس کی منظوری دے گی۔ اس عمل کے تحت ایسے قوانین، ضابطوں، طریقہ کار، لائسنسوں اور منظوریوں کی نشاندہی کی جائے گی جنہیں ختم کرنے یا تبدیل کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
کمیٹی بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پیش کی جانے والی اصلاحاتی تجاویز کا جائزہ لے کر منظور شدہ سفارشات وفاقی کابینہ کو توثیق کے لیے بھیجے گی۔ اس کے علاوہ اصلاحاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے پالیسی فیصلے بھی کرے گی، تاہم قانونی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانا بھی اس کی ذمہ داری ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں مجوزہ اصلاحات پر متعلقہ وزارتوں کے اعتراضات دور کرنے کے لیے اپیل کا طریقہ کار وضع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے تحت متعلقہ وزیر کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کی سفارشات کے خلاف اپنا مؤقف پیش کر سکے۔
کمیٹی ان اپیلوں کی سماعت کرے گی اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی کہ متعلقہ سفارش برقرار رکھی جائے یا اسے مسترد کیا جائے۔
کمیٹی آسان کاروبار منصوبے پر پیش رفت کی نگرانی بھی کرے گی اور طے شدہ اہداف بروقت مکمل کرنے کو یقینی بنائے گی۔ ان اہداف میں قانونی رجسٹری کا قیام اور اسے فعال بنانا بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ کمیٹی بورڈ آف انویسٹمنٹ کو کاروباری ماحول بہتر بنانے اور ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق مزید ذمہ داریاں بھی سونپ سکے گی۔

