اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے 2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد کسانوں کو بڑھتے پیداواری اخراجات سے ریلیف دینا، گندم کی کاشت بڑھانا اور ملکی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ قیمت سے کاشت کاروں کو اپنی پیداواری لاگت پوری کرنے اور مناسب منافع حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ بہتر مالی ترغیب کے باعث کسان آئندہ سیزن میں گندم کی کاشت میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔
اس فیصلے کے لیے مشاورتی عمل میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور قائد محمد نواز شریف کی رہنمائی کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی مشاورت اور تعاون بھی شامل رہا۔
شہباز شریف نے قابل قدر تجاویز پیش کرنے اور مشاورتی عمل میں تعاون پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے تعاون کو بھی سراہا۔
وزیراعظم کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران مہنگائی اور زرعی اخراجات میں اضافے کے باعث کسانوں کو مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ مجوزہ قیمت کا مقصد کاشت کاروں کو بہتر مالی ترغیب فراہم کرنا اور انہیں گندم کی کاشت بڑھانے کی جانب راغب کرنا ہے۔
پاکستان کو گزشتہ دو برسوں کے دوران گندم درآمد بھی کرنا پڑی، جس کے باعث مقامی پیداوار بڑھانے کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ مجوزہ قیمت سے آئندہ سیزن میں گندم کی بوائی اور مجموعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
حکومت اس اقدام کو کسانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ، زرعی شعبے میں استحکام اور غذائی تحفظ بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دے رہی ہے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ مقامی پیداوار میں اضافہ ملک کو غذائی ضروریات کے حوالے سے زیادہ خودکفیل بنانے میں مدد دے گا۔
تاہم، 4500 روپے فی من کی قیمت فی الحال مجوزہ یا اشاراتی ہے۔ متعلقہ سرکاری اعلان اور طریقۂ کار کی تصدیق تک اسے حتمی اور نافذ شدہ سرکاری خریداری قیمت نہیں سمجھا جا سکتا۔

