15

ڈیزل 2 روپے 29 پیسے مہنگا، قیمت 402 روپے 96 پیسے فی لیٹر ہوگئی، پٹرول برقرار

اسلام آباد: حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 29 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 402 روپے 96 پیسے ہوگئی، جبکہ پٹرول کی قیمت 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شدہ ایکس ڈپو قیمتوں کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 400 روپے 67 پیسے سے بڑھا کر 402 روپے 96 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

دوسری جانب موٹر اسپرٹ، جسے عام طور پر پٹرول کہا جاتا ہے، کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسے 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر برقرار رکھا گیا ہے۔

اوگرا نے وفاقی حکومت کے منظور کردہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے تحت نئی ایکس ڈپو قیمتوں کا اعلان کیا ہے، جن کا اطلاق 31 اکتوبر سے 2 نومبر 2026 تک ہوگا۔

ڈیزل کی قیمت میں تازہ اضافے سے مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلز اور دیگر زرعی مشینری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

ملک بھر میں اشیائے ضروریہ، خوراک، صنعتی خام مال اور دیگر سامان کی ترسیل کے لیے مال بردار گاڑیوں کا انحصار ڈیزل پر ہے۔ قیمت میں اضافے سے ٹرانسپورٹرز کے آپریٹنگ اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مال برداری کے کرایوں میں اضافے کا امکان ہے۔ اس کا اثر بالآخر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور عام صارفین کے گھریلو بجٹ پر پڑ سکتا ہے۔

زرعی شعبہ بھی ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے متاثر ہوسکتا ہے، کیونکہ ٹریکٹروں، ہارویسٹرز اور آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے ٹیوب ویلز کو چلانے میں ڈیزل اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے فصلوں کی کاشت، آبپاشی اور زرعی اجناس کو منڈیوں تک پہنچانے کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

اگرچہ پٹرول کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے، تاہم ڈیزل کی قیمت میں اضافہ معیشت کے مختلف شعبوں کے لیے اہم ہے، کیونکہ ملک میں اشیا کی ترسیل، زراعت اور صنعتی سرگرمیوں کا بڑا حصہ ڈیزل پر انحصار کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں