رنگ روڈ راولپنڈی اسکینڈل کے بعد فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی کے بعض افسران کی ملی بھگت سے اربوں روپے کے اسیکنڈل کا انکشاف ہوا ہے۔
نیب لاہور کو مطلوب فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی کے نائب تحصیلدار ذاکر حسین سمیت 6افسران نے اسلام آباد کے دو نئے سیکٹرایف 12 اور جی 12 سیکٹر کے اراضی مالکان سے اپنے رشتے داروں اور دوستوں کے نام پر پاور آف اٹارنی حاصل کرکے اربوں روپے کی ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کروایا۔
ایف جی ای ایچ اے نے ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اراضی مالکان کو 72لاکھ 33ہزار500روپے فی کینال ادائیگی کی منظوری دی تاہم سرکاری افسران اور انکے انوسٹردوستوں نے اراضی مالکان پر دباؤ ڈال کر 30سے 40لاکھ روپے فی کینال ادائیگی پر قائل کرکے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے نام پر پاورآف اٹارنی حاصل کئے۔
متاثرین کی شکایت پر وفاقی وزیر ہاوسنگ طارق بشیر چیمہ نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی فیڈرل ہاوسنگ اتھارٹی کو 76کروڑ روپے کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔ پاور آف اٹارنی کے ذریعے مجموعی 10ارب روپے سے زائد رقم حقیقی مالکان سے اینٹھنے کا پلان تیار کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیرہاوسنگ طارق بشیر چیمہ اور سیکرٹری ہاوسنگ نے عمران زیب نے پاور آف اٹارنی کی بجائے تمام اراضی مالکان کو براہ راست ادئیگیوں کا حکم دیتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف انکوائری کی ہدایت کردی ہے۔ نائب تحصیلدار ذاکر حسین سمیت اس کھیل میں شریک 6افسران کو سابق ڈی جی فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی وسیم باجوہ کے انتہائی قریبی تصور کیا جاتاہے۔
موصول دستاویز کے مطابق ایف جی ای ایچ اے نے حقیقی مالکان کو اپنی اراضی ایگریمنٹ کے ذریعے فروخت کرنے سے منع کردیا ہے۔ تمام حقیقی مالکان کو رقم وصولی کیلئے درخواستیں ڈپٹی کمشنر لینڈ ایکوزیشن کلکٹر کو جمع کروانے کی ہدایت جاری کردی ہے۔میں دونئے سیکٹرز کے اراضی مالکان سے پاور آف اٹارنی حاصل کرنے کا سلسلہ گذشتہ سال سے جاری تھا۔ حیران کن طور پر پاور آف اٹارنی پر ادائیگیاں کرنے کیلئے لاء ڈیپارٹمنٹ سے منظوری لئے بغیر ادائیگیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع کےمطابق ابتدائی طور پراس معاملے میں ذاکرحسین کیساتھ مبینہ طور پر ڈائریکٹر لینڈ ڈاکٹر ستیش،ڈٓائریکٹر ایڈمن انیلہ،ڈٓائریکٹر سٹیٹ کاظم شاہ ،سابق ڈائریکٹر صائمہ صباح اور ڈائریکٹر ہاوسنگ اسرار چیمہ کا نام سامنے آیا ہے تاہم حتمی انکوائری کے بعد ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائزہاوسنگ اتھارٹی کے سابق ڈی جی وسیم باجوہ کے دور میں جی 13سیکٹر میں وزیراعظم آفس کی اہم شخصیت کے قریبی عزیز کو اسکول کا پلاٹ دیا گیا۔ سکول کا یہ پلاٹ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹرانسفر کردیا گیا۔ ایف جی ای ایچ اے میں فسیلیٹیشن سنٹر کو آؤٹ سورس اور سکول پلاٹ کے معاملے کی بھی وزارت ہاوسنگ نے انکوائری کی ہدایت جاری کردی ہے۔
نائب تحصیلدار ایف جی ایچ اے ذاکر حسین کے خلاف نیب لاہور نے ڈی جی ایف جی ای ایچ اے کو 2مارچ 2021کو خط لکھا۔ نیب نے اپنے خط میں ذاکر حسین کی لاہور ہائییکورٹ سے عبوری ضمانت 25فروری کومنسوخ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضمانت منسوخی کے بعد ذاکر حسین عدالت سے فرار ہوگیا۔ نیب لاہور کو تحقیقات کیلئے ذاکر حسین مطلوب ہے۔ ذاکرحسین اگر ایف جی ای ایچ اے کے دفتر میں حاضر ہوتواسکے خلاف ضروری کاروائی کرنے کیساتھ نیب لاہور کو فوری طور پر مطلع کیا جائے۔

