نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیج کمپنی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کی بجلی کے نرخوں میں کمی اور گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے کاوشوں کو دھچکا پہنچا ہے۔
اے ایس لعل پیر اور پاک جن پاور پلانٹ کے معاہدے میں خلاف ضابطہ ترمیم کیلئے قومی خزانے کو 15ارب روپے سالانہ نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔ دونوں پاور پلانٹس کی خلاف ضابطہ کم ازکم لوڈنگ 20فیصد سے بڑھا 50فیصد کردی گئی۔ کم ازکم لوڈنگ بڑھنے سے سستے پاور پلانٹس بند کرکے اے ایس لعل پیر اور پاک جن سے فرنس آئل پر مہنگی بجلی کی خریداری کو لازم کردیا گیا ہے۔آئی پی پیز کیلئے مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کرنے پر این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے خلاف ضابطہ پالیسی گائیڈ لائنر جاری کرنے والے جنرل منیجرمحمد ایوب کو ترقی سے نوازتے ہوئے ایم ڈی این ٹی ڈی سی تعینات کردیا ہے جبکہ خلاف ضابطہ اقدام کی نشاندہی اور کاروائی کا مطالبہ کرنے والے ایم ڈی انجینئر ڈاکٹر خواجہ رفعت کو عہدے سے ہٹا کر حیدرآباد بھیج دیا گیا ہے۔ دونوں آئی پیز کو نوازنے میں چئیرمین این ٹی ڈی سی بورڈ نوید اسماعیل، جنرل منیجر محمد ایوب،بورڈ ممبر جوائنٹ سیکرٹری پاور ڈویژن احمد تیمور ناصر اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے افسران نے کلیدی کردار اداکیا ہے۔
موصول دستاویز کے مطابق کم سے کم لوڈنگ 20فیصد سے بڑھا کر 50فیصد کرنے سے صارفین کے ٹیرف میں ا ضافے کے ساتھ ساتھ سستے کوئلے،سولر،گیس اور نیوکلیئر پلانٹس کی پیداوار میں کمی ہوگی جبکہ گردشی قرضے میں اضافہ ہوجائے گا۔ ذرائع کے مطابق نوید اسماعیل اے ایس لعل پیر اور پاک جن آئی پی پیز گروپ کیساتھ وابستہ رہ چکے ہیں۔ چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز این ٹی ڈی سی نوید اسماعیل اور پاور ڈویژن کے جوائنٹ سیکرٹری احمد تیمور ناصرکی خلاف ضابطہ سرگرمیوں کے باعث سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی خواجہ رفعت حسین سے مطمئن نہیں تھے۔جوائنٹ سیکرٹری وزارت توانائی احمد تیمور ناصر کی جانب سے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر نوید اسماعیل کے اکسانے پر کئی بار خواجہ رفعت حسین کو عہدے سے ہٹانے کی دھمکی دی گئی تاہم خواجہ رفعت حسین کی جانب سے کنٹریکڑز اور پاور کمپنیوں کو خلاف ضابطہ مالی فائدہ دینے انکار کیا گیا۔فروری1998اور نومبر1999میں 362میگاواٹ کے مہنگے فرنس آئل سے چلنے والے پلانٹس کی تعمیر کیلئے اے ای ایس لال پیر اور پاک جین کے درمیان1994کی پاور پالیسی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کے بعد معاہدے پر دستخط کیے گئے۔یکم مارچ2021کو اس وقت کے جنرل مینیجر اور موجودہ ایم ڈی این ٹی ڈی سی محمد ایوب نے ٹرانسفر کے آخری دن ایم ڈی خواجہ رفعت حسین کی منظوری کے بغیر کم سے کم لوڈنگ 20فیصد سے50فیصد کرنے کی منظوری دیدی۔20اپریل2021کو پاور پلانٹس کی انتظامیہ نے سی پی پی اے -جی کے ساتھ پاور پرچیر ایگرمینٹ میں ترمیم نمبر2کے ذریعے کم سے کم لوڈنگ20سے50فیصد اضافہ کرا لیا۔29اپریل2021کونئے جنرل مینجیر غلام عباس میمن نے معاملے کا پتہ چلنے پر ایم ڈی خواجہ رفعت حسین کو بے قاعدگیوں سے متعلق آگاہ کیا۔ایم ڈی خواجہ رفعت حسین کی جانب سے نیپرا،وزارت توانائی،این ٹی ڈی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز او ر سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے نوٹس میں معاملہ لایا گیا۔ایم ڈی خواجہ رفعت حسین کی جانب سے اس وقت کے جنرل مینیجر محمد ایوب سے وضاحت طلب کی گئی اور چیئرمین بورڈ آف ڈائریکڑز کو آگاہ کیا گیا۔تاہم چیئرمین بورڈ آف ڈائرکٹرز نوید اسماعیل کی جانب سے محمد ایوب کے خلاف قومی خزانے کوسالانہ15ارب روپے کا نقصان پہنچانے کی صورت میں کارروائی کرنے کی بجائے 20مئی2021کو ڈی ایم ڈی این ٹی ڈی سی تعینات کر دیا۔ نوید اسماعیل کی جانب سے وزارت توانائی کو گمراہ کرکے ایم ڈی خواجہ رفعت حسین کو عہدے سے ہٹا کر محمد ایوب کو ایم ڈی این ٹی ڈی سی کا اضافی چارج دیدیا گیا۔بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرنے والے نئے جنرل مینجیر غلام عباس میمن کوواپڈا ہاؤس ٹرانسفر کرکے ان کی جگہ اپنے خاص افسر چیف انجینئر محمد مسعود الرحمان کو تعینات کردیا گیا۔خواجہ رفعت حسین کو انتقام کو مزید نشانہ بنانے کیلئے لاہور سے حید ر آباد ٹرانسفر کردیا گیا۔محمد ایوب کی جانب سے ایم ڈی کا چارج حاصل کرنے کے بعد بڑے پیمانے پر جنرل مینیجر،چیف انجینئر ز اور پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتیاں اور تبادلے کیے گئے۔ایم ڈی این ٹی ڈی سی محمد ایوب اور چئیرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز نوید اسماعیل سے رابطہ کرنے کےباوجود موقف حاصل نہیں کیا جاسکا۔

