549

وفاقی حکومت نےوفاقی وزراء،سول بیوروکریٹس اور ججز کو ذاتی سیکیورٹی کیلئے 69ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس جاری کرنے کی منظوری دیدی

وفاقی حکومت نے وزارت داخلہ کی جانب سے نئی اسلحہ پالیسی تیار نہ کرنے کے باوجود وفاقی وزراء،سول بیوروکریٹس،مسلح افواج اور ججز کو ذاتی سیکیورٹی کیلئے 69ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

سابق چئیرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارتی لیفٹینٹ جنرل افضل خان سمیت 46مسلح افواج کے افسران،دو وفاقی وزراء،ہائیکورٹس کے 8ججز اور 11بیورورکریٹس کو ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری اور وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال کو بھی ممنوعہ بور کا اسلحہ لائسنس جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے ممنوعہ اور غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس کے اجرا پر 27جون2013کو پابندی عائد کی گئی تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے13دسمبر2018کو آرمی ریگولیشن 2000کے مطابق جنرل آفیسر اور اس درجے کے دوسرے افسران کو تحفے میں ملنے والے اسلحے کے ممنوعہ بور کے لائسنس پر سے عائد پابندی اٹھالی گئی تھی۔وفاقی کابینہ کے ارکان نے ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسن کابینہ اجلاس میں پیش کرنے پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزارت داخلہ کو متعدد مرتبہ ہدایات جاری کی گئیں کہ آئندہ یہ امور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش نہی کئے جائیں۔ وزارت داخلہ کو اسلحہ لائسنس کا معاملہ کابینہ میں پیش کرنے کی بجائے وزارت کی سطح پر منظور کرنے کی ہدایت کی تھی۔

موصول دستاویز کے مطابق کہ وفاقی کابینہ کی ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس کے اختیارات وزارت داخلہ کو منتقل کرنے کیلئے قانون میں ترمیم کی واضح ہدایات کے باوجو د وزارت داخلہ کی جانب سے ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے کیوں پیش کیا گیا۔وزارت داخلہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان آرمز آرڈیننس 1965میں ترمیم کا بل سینیٹ میں موجود ہے جوکہ جلد منظور ہونے کی امید ہے۔بحث کے دوران نشاندہی کی گئی کہ اس مقصد کیلئے قانون میں ترمیم کی ضرورت نہیں۔پاکستان آرمز آرڈیننس 1965کے موجود ہ رولز میں مجاز اتھارٹی کی تعریف کی جا سکتی ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان آرمز آرڈیننس 1965کے سیکشن 11(A)(2)کے تحت وفاقی حکومت کو ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس کے اجرا کا اختیار حاصل ہے۔ فوج کے جنرل افسران اور ان کے عہدے کے برابر افسران کی جانب سے ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس کے اجرا کیلئے وزارت داخلہ سے درخواست کی گئی۔

وفاقی کابینہ نے سابق چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل افضل خان کی جانب سے ممنوعہ بور کے دو اسلحہ لائسنس،پشاور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شکیل احمد کی جانب سے ممنوعہ بور کا ایک اسلحہ لائسنس،بلوچستان ہائیکورٹ کے جج محمد کامران خان کی جانب سے ممنوعہ بور کے دو اسلحہ لائسنس،پشاور ہائیکورٹ کے جج جسٹس اکرام اللہ خان،جسٹس اعجاز انور،جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ کی جانب سے ممنوعہ بور کا ایک اسلحہ لائسنس،لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس سید شہباز علی رضوی کی جانب سے ممنوعہ بور کا ایک اسلحہ لائسنس، وفاقی سیکرٹری وزارت انسانی حقوق رابعہ جویری آغا، ،سیکرٹری این آئی ایس آر سی اللہ بخش ملک،سیکرٹری نیشنل سکیورٹی ڈویژن سکواڈرن لیڈر (ر) شاہ رخ نصرت،رکن ایف بی آر روزی خان برکی،سابق وفاقی سیکرٹری طارق باجوہ،ایم ڈی نیشنل پالیسی بیورو احمد لطیف،سابق آئی جی راؤ امین ہاشم،سیکرٹری وفاقی محتسب ڈاکٹر جمال ناصر،ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان،سابق سیکرٹری وزارت داخلہ اعظم سلیمان خان،خصوصی سیکرٹری وزارت داخلہ شیر عالم محسود،لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی اور جسٹس جواد حسن کو ممنوعہ بور کے ایک اسلحہ لائسنس جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے سول،فوجی افسران اور ہائیکورٹ کے ججز کو ممنوعہ بور کے اسلحہ کیلئے پاکستان آرمز آرڈیننس 1965کے سیکشن 11(A)(2)کے تحت اسلحہ لائسنس جاری کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں