اسلام آباد : وزیراعظم شہبازشریف نے نیشنل ٹرانسمیشن ڈسپیچ کمپنی اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا کے ٹو اور کے تھری نیوکلئیرپاورپلانٹس کیساتھ دوہرا معیار برتنے اور سستی بجلی کی پیداوار میں رکاوٹ ڈالنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے.
وزیراعظم نے 2فروری کو کے تھری نیوکلئیرپاورپلانٹس کاافتتاح کیا مگر ٹرانسمیشن لائن تاحال مکمل نہیں ہوئی. 1100میگاواٹ کے ٹو نیوکلئیرپاورپلانٹس آپریشنل ہوچکا مگر دونوں کمپنیوں نے تاحال سہ فریقی معاہدہ نہیں کیا .کے ٹو اور کے تھری سے بجلی کی پیداوارپر فیول لاگت صرف 1روپے 6پیسے ہے.سی پی پی اے کی 23روپے فیول لاگت والے پلانٹس سے بجلی خریداری اولین ترجیح بن چکی. سستی ترین نیوکلئیربجلی کیلئے 500کے وی پورٹ قاسم تا مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کی تاخیرکا شکار ہے. وزیراعظم کی سیکرٹری پاور ڈویژن کو متعلقہ حکام کیساتھ ملاقات کرکے رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت جاری کردی.کے ٹو اور کے تھری پاور پلانٹس 1400ارب روپے کی لاگت سے چین کے تعاون سےمکمل کئے گئے ہیں.
204

