خصوصی رپورٹ
اسلام آباد: پاکستان کے پاور سیکٹر کو زرمبادلہ کی کمی کی وجہ سے شدید بحران کا سامنا ہے، کیونکہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) تقریباً 710 ملین ڈالر کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اپنے پاور پلانٹس کو بند کرنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
آئی پی پیز نے وفاقی حکومت کو خطوط لکھے ہیں، جن میں ان کے بقایا ادائیگی کے مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے اور ان کے خدشات دور نہ ہونے کی صورت میں شدید مالی نقصان کا انتباہ دیا گیا ہے۔
آئی پی پیز کے لیے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے کیونکہ ان کے پاور انجن اوور ہال ہونے والے ہیں، اور عدم ادائیگی کی وجہ سے اسپیئر پارٹس نہیں پہنچے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار کا عمل رک گیا ہے جس سے کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے رقوم کی ترسیل نہ کرنا معاہدے کی خلاف ورزی ہے، اور آئی پی پیز نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو وہ معاہدے کے مطابق سخت کارروائی کریں گے۔
آئی پی پیز نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر ملکی شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ کی ترسیلات میں تاخیر، لیٹرز آف کریڈٹ (LCs) کے خلاف بینکوں کی جانب سے غیر ملکی سپلائرز کو ادائیگی نہ کرنے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے زرمبادلہ کی دستیابی سے پیدا ہونے والے ان کے مسئلے کو حل کرے۔
اٹلس پاور کے سی ای او رضی الرحمان نے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے ایم ڈی کو خط لکھ کر معاملے کو حل کرنے کے لیے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔ اٹک جنرل لمیٹڈ کے سی ایف او عادل فاروق قریشی نے بھی اسٹیٹ بینک کے ذریعے کمپنی کو غیر ملکی زرمبادلہ فراہم کرنے کے لیے جی او پی کی ذمہ داری پر روشنی ڈالی۔
دریں اثنا، اورینٹ پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے سی ای او کاشف بشیر رانا نے درخواست کی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اورملک کے لئے انتہائی ضروری غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اس معاملے کو فوری حل اور زیر التواء ڈیویڈنڈ کی ادائیگی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اسٹیٹ بینک کے ساتھ اٹھایا جائے۔
پی پی آئی بی کے ایم ڈی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ آئی پی پیز کو ان کی غیر ملکی ادائیگیوں کے لیے سہولت فراہم کرے تاکہ وہ اپنے معاہدے کی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور حکومت پاکستان اور/یا اس کے نمائندے اداروں کے لیے وعدوں کی ممکنہ خلاف ورزی کے لیے سنگین مالی اور قانونی اثرات پیدا کرنے کے خطرے سے بچ سکیں.

