خصوصی رپورٹ
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کےان کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر سخت برہم ہیں جو مبینہ طور پر بجلی چوری اور سالانہ 100 ارب روپے کے لائن لاسز کے ذمہ دار ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ افسران مبینہ طور پر سالانہ 100 ارب روپے کی بجلی چوری اور لائن لاسز کے ذمہ دار ہیں۔ وزیر اعظم نے اکتوبر 2022 میں اس مسئلے سے نمٹنے اور پاور ڈویژن کے تجویز کردہ اقدامات کو نافذ کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ تاہم ان کی ہدایت پر عمل درآمد نہ ہونے سے وہ مایوس ہو چکے ہیں۔ پاور ڈویژن کی جانب سے کرپٹ افسران کی فہرست پیش کرنے میں ناکامی نے پاور سیکٹر میں ترقی کو روکا ہے اور اس شعبے میں بدعنوانی کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔
اکتوبر 2022 میں، وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کی بجلی چوری/لائن لاسز پر پیش کردہ پریزنٹیشن کا بھی نوٹس لیا تھا اور ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایک معروضی معیار کی بنیاد پر ڈسکوز میں تعینات کرپٹ افسران کی فہرست تیار کرے۔ کابینہ نے چوری اور لائن لاسز کو روکنے اور پاور سیکٹر میں دیگر مرحلہ وار اصلاحات کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وزیر دفاع کی سربراہی میں ایک نو رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔
کابینہ ڈویژن نے چار مئی 2023 کو ایک آفس میمورنڈم جاری کیا ہے جس میں کابینہ کے فیصلے پر عمل درآمد کی صورتحال پر تازہ ترین پیش رفت کی رپورٹ مانگی گئی ہے جو کہ وفاقی کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔
198

