اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپریل 2023 کے مہینے کے لیے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی سماعت کا عمل کامیابی سے مکمل کرلیا۔
چیئرمین توصیف ایچ فاروقی سمیت نیپرا اتھارٹی کے ممبران کی زیر صدارت الگ الگ سماعتوں میں مختلف اسٹیک ہولڈرز، جیسے DISCOs، CPP سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجینسی ،این ٹی ڈی سی ، این پی سی تاجر برادری، صحافیوں اور عام لوگوں نے شرکت کی۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر، ڈسکوز کے ٹیرف میں 2.01 روپے فی کلو واٹ ہاور تجویز کیا گیا تھا، جو اپریل 2023 کے لیے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ نیپرا کے ابتدائی حسابات میں 1.61 روپے فی یونٹ ظاہر کیا گیا ہےجو کہ نیپرا کی منظوری کی صورت میں تقریباً 15.626 بلین روپے کا بوجھ بجلی کے صارفین پر ڈال سکتا ہے.
مزید برآں، نیپرا نے اپریل 2023 کے لیےکے الیکٹرک کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ اور مارچ 2023 میں ختم ہونے والی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے لیے سماعت کا عمل مکمل کیا۔ کے الیکٹرک نے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے لیے 0.489 فی یونٹ اور 5.71روپے فی یونٹ کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ جنوری سے مارچ 2023 کی مدت کے لیے درخواست کی تھی۔
نیپرا نے بتایا کہ اپریل 2023 میں کے الیکٹرک کے لیے خالص ایف سی اے، ابتدائی حسابات کے مطابق، م47 پیسے روپے بنتی ہے جس کے نتیجے میں تقریباً 72 ملین روپے کا صارفیں کو ا ریلیف ملتا ہےاور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے، نیپرا کے الیکٹرک کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ اور معلومات کی چھان بین کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے بجلی صارفین فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے اپنے اگلے ماہ کے بلوں میں اضافی ادائیگیوں کی توقع کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ اضافہ لائف لائن صارفین پر لاگو نہیں ہوگا۔

