202

وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنے سے چھٹکارا حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا

سپیشل رپورٹ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آزربائیجان کی سوکار کمپنی سے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ بنیادوں پر ہر ماہ ایک ایل این جی کا کارگو خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں سوموار(5 جون) کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی سوکاراور پی ایل ایل کے مابین معاہدہ کرنے کی منظوری حاصل کی جائے گی.

تفصیلات کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظوری حاصل کرنے کے بعد پیٹرولیم ڈویژن کے ماتحت کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹیڈ (پی ایل ایل) اور سوکار کے مابین ایل این جی خریدنے کا معاہدہ ہوگا . جس کے بعدسوکار کمپنی سے عالمی مارکیٹ میں سپاٹ ریٹ کے مقابلے میں سستے دام پر ایل این جی خریدی جائے گی.
وزارت قانون نے سوکار کمپنی کی سبسبڈریز کیساتھ معاہدہ کرنے کی اجازت دیدی ہے.

سوکار کمپنی ہر ماہ پی ایل ایل کو ایل این جی کارگو کی دستیابی اور ریٹ سے متعلق آگاہ کرے گی.پی ایل ایل عالمی مارکیٹ اور پاور سیکٹر کا جائزہ لینے کے بعد ایل این جی کارگو خریدنے کی رضامندی دے گی.سوکار کمپنی عالمی مارکیٹ میں سپاٹ ریٹ کےمقابلے میں ہرصورت کم قیمت پر کارگو فروخت کرے گی اورپی ایل ایل ادائیگی کیلئے مقامی بینک میں ایل سی کھولے گی جبکہ عالمی بینک کے کنفرمیشن چارجز سوکار ادا کرے گی.

پاکستان لانگ ٹرم معاہدوں کے تحت قطر سے ماہانہ 8کارگو جبکہ ای این آئی کمپنی سے 1کارگو ماہانہ ایل این جی خرید رہا ہے. گذشتہ سال فروری تا ستمبر کے دوران پی ایل ایل سپاٹ اور مڈٹرم معاہدے کے تحت ایل این جی کارگو خریدنے میں ناکام رہی تھی.

عالمی مارکیٹ میں بلند قیمتوں اور پاکستان کی ریٹنگ ڈآن گریڈ ہونے کے باعث سپلائر نے ایل این جی کارگو پاکستان کو فروخت نہیں کئے تھے
سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے آذربائیجان کیساتھ انرجی کے شعبے میں تعاون کیلئے معاہدے پر دستخط کئے تھے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں