سٹاف رپورٹ
اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ ان کا یہ فیصلہ وزیر مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کے ساتھ آذربائیجان کی سوکار (سٹیٹ آئل کمپنی آف آذربائیجان ریپبلک) کے ساتھ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) ڈیل کے بارے میں مبینہ اختلافات کے نتیجے میں آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پانچ جون 2023 کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں عباسی نے حکومت سے حکومت کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بجائے ایک نجی کمپنی کو سوکار سے ایل این جی حاصل کرنے کی وکالت کی اور اس پر عباسی اور وشیر مملکت مصدق ملک کے درمیان اس پر گرما گرم بحث مباحثہ بھی ہوا۔ تاہم 14 جون 2023 کو پٹرولیم ڈویژن نے ایک مرتبہ پھر اقتصادی رابطہ کمیٹی میں سمری پیش کی اورعباسی کی تجاویز کو ای سی سی کی سمری میں شامل نہ کیا جس پر شاہد خاقان عباسی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے استعفے دے دیا.
ذرائع نے مزید کہا کہ ای سی سی کے فیصلے کا مقصد ملکی مفادات کا تحفظ ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی سمری پر ای سی سی کے فیصلے میں ایل این جی کارگو، قیمتوں کا تعین، معاہدے کی ذمہ داریوں، پورٹ چارجز، اور آر ایل این جی کی ڈیمانڈ پروجیکشن کی پیشگی ضرورت سے متعلق ترامیم اور ترامیم شامل ہیں۔

