230

پاکستان کے بعد سعودی عرب نے یمن کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی اقتصادی امداد کا وعدہ کردیا

سٹاف رپورٹ
اسلام آباد: سعودی عرب جو کہ پاکستان کی مالی معاونت کررہا ہے نے یک جہتی اور بھائی چارے کے عظیم عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے برادر اسلامی ملکی یمن
کی حکومت کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی اقتصادی مدد کے وعدے کا اعلان کردیا ہے.

سعودی عرب نے مالی معاونت کا اعلان اس وقت کیا ہے جب یمن اقتصادی چیلنجوں اور شدید انسانی بحران سے دوچار ہے اور اس نےاپنے بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے سعودی عرب سےمدد کی درخواست کے درکواست کی ہے اور اس درخواست کےجواب میں سعودی امداد کا مقصد ملک یمنج کی معیشت کو تقویت دینا، اس کی مصیبت زدہ آبادی کو ریلیف فراہم کرنا، اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

فراخدلی سے یمن کی مالی امداد دونوں ممالک کے درمیان پائیدار تعلقات کی نشاندہی کرتی ہے اور یمن میں سلامتی، استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کے لیئے سعودی مملکت کی غیر متزلزل لگن کی عکاسی کرتی ہے۔

یمن کے وزیر خزانہ سالم بن بریک نے بھاری مالی امداد کے لیے تہہ دل سےسعودی عرب کا شکریہ ادا کیا، اقتصادی استحکام کے حصول اور مختلف گورنریٹس میں شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سعودی عرب کی دہائیوں سے ترقیاتی اور اقتصادی امداد فراہم کرنے کی دیرینہ روایت کی بھی تعریف کی۔

یہان اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ سعودی فنڈنگ ​​ یمن کےضروری اخراجات جیسے کہ تنخواہوں اور اجرتوں کو پورا کرے گی جبکہ یمن میں غذائی تحفظ کے اہم مسئلے کو بھی حل کرے گی جو کہ مشکل وقت میں یمن کی مدد کرنے کے لیے سعودی عرب کی مسلسل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رشاد محمد العلیمی نے یمن کے آئینی جواز کی حمایت کے لیے سعودی عرب کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے انسانی مصائب کو کم کرنے، ریاستی اداروں کی تعمیر نو اور قوم میں دیرپا امن، استحکام اور ترقی کے قیام کے لیے سعودی مملکت کی کوششوں کو سراہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں