96

چیئرپرسن پیرا ڈاکٹر سیدہ ضیا بتول کو تعلیم کے شعبے میں گرانقدر خدمات پر گلوبل ڈپلومیٹک ایوارڈ سے نوازا گیا

سٹاف رپورٹ
اسلام آباد: ڈاکٹر سیدہ ضیا بتول، چیئرپرسن پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا)، کو 6ویں گلوبل ایمبیسیڈر ایوارڈز کی تقریب میں گلوبل ڈپلومیٹک ایوارڈ سے نوازا گیا۔
یہ تقریب 13 نومبر کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ اس ایوارڈ کا مقصد اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں تعلیمی معیار اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے ان کی خدمات اور قومی و بین الاقوامی سطح پر تعلیمی پالیسیوں میں ان کے اثر انگیز کردار کو سراہنا ہے۔

ڈپلومیٹک انسائٹ گروپ، جو ایک پبلک ڈپلومیسی تنظیم ہے، نے ڈاکٹر بتول کو آئی سی ٹی کے نجی تعلیمی اداروں میں ریگولیٹری گورننس کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی تعلیمی پالیسی کے فروغ میں ان کی خدمات کے اعتراف میں نامزد کیا تھا۔ اس تقریب میں مختلف ممالک کے سفیروں، سرکاری عہدیداروں، کاروباری رہنماؤں، یونیورسٹی وائس چانسلرز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل خان تھے، جب کہ کئی سفیروں اور نامور ماہرین تعلیم نے بھی ڈاکٹر بطول کی خدمات کو سراہا۔

ڈاکٹر سیدہ ضیا بتول کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں 23 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے، جن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (پی ایچ ای سی) میں کلیدی عہدے شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں کوالٹی ایشورنس اور ادارہ جاتی جائزے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انہوں نے پاکستان کی نمائندگی ایشیا پیسفک کوالٹی نیٹ ورک (APQN) بورڈ میں کی ہے اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی جامعات کے لیے کارکردگی کے کلیدی اشاریے (KPIs) تیار کیے ہیں۔ ان کی تصنیف کوالٹی ایشورنس مینوئل برائے اعلیٰ تعلیم نے تعلیمی معیار کے معیار میں نمایاں اثر ڈالا ہے۔

اکتوبر 2019 میں چیئرپرسن پیرا کا عہدہ سنبھالنے کے بعد، ڈاکٹر بتول آئی سی ٹی کے نجی تعلیمی شعبے میں معیار اور شمولیت کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ ان کی قیادت نے بین الاقوامی تعاون کو بھی مضبوط کیا ہے، جس سے عالمی تعلیمی برادری کو فائدہ پہنچا ہے۔

گلوبل ڈپلومیٹک ایوارڈ ڈاکٹر بتول کی تعلیمی برتری کے لیے غیر متزلزل عزم اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ان کے بے مثال کردار کا اعتراف ہے۔ یہ ایوارڈ پاکستان میں ایک مضبوط اور جامع تعلیمی نظام کی تشکیل کے لیے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور عالمی تعلیمی حلقوں میں پاکستان کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں