سٹاف رپورٹ
اسلام آباد: اسلامی عسکری اتحاد برائے انسداد دہشتگردی (آئی ایم سی ٹی سی) نے پیر کے روز موریتانیہ کے دارالحکومت نواکشوط میں ساحل ممالک کے لیے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنے نئے پروگرام کا آغاز کیا۔
اس تقریب میں موریتانیہ کے وزیر دفاع حنینا ولد سیدی، آئی ایم سی ٹی سی کے سیکریٹری جنرل میجر جنرل پائلٹ محمد بن سعید المغیدی، اور موریتانیہ حکومت کے وزراء داخلہ، انصاف، اسلامی امور، ثقافت اور مواصلات سمیت متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ، اتحاد کے رکن ممالک اور حمایت کرنے والے ممالک کے سفیروں نے بھی شرکت کی۔

موریتانیہ کے وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں دہشتگردی کو انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا، خاص طور پر ساحل خطے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم سی ٹی سی کے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
آئی ایم سی ٹی سی کے سیکریٹری جنرل میجر جنرل المغیدی نے کہا کہ یہ پروگرام خطے میں استحکام کو بڑھانے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام اتحاد کے چار بنیادی ستونوں پر مبنی ہے: نظریاتی، میڈیا، دہشتگردی کی مالی معاونت کا خاتمہ، اور عسکری تعاون۔
انہوں نے مزید کہا کہ ساحل ممالک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم مرکز ہیں، اور یہ پروگرام شراکت داری اور تعاون کے ذریعے امن و سلامتی کے فروغ کے لیے آئی ایم سی ٹی سی کے عزم کا عکاس ہے۔
اس تقریب میں آئی ایم سی ٹی سی کے قیام پر ایک تعارفی فلم بھی دکھائی گئی، جو سعودی ولی عہد اور وزیراعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود کی پہل پر دسمبر 2015 میں تشکیل دیا گیا تھا۔
اتحاد کے اس نئے پانچ سالہ پروگرام کا پہلا سال موریتانیہ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں 239 سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد دہشتگردی کے خلاف کام کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ، دہشتگردانہ نظریات کا خاتمہ، اور ان کے خطرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔
سعودی عرب نے اس پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے 100 ملین سعودی ریال فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی وزیر دفاع اور آئی ایم سی ٹی سی کے ڈیفنس منسٹرز کونسل کے چیئرمین، شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز، نے رواں سال فروری میں ریاض میں ہونے والے اجلاس میں یہ اعلان کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اتحاد کے تحت 46 تربیتی پروگرام بھی فراہم کرے گا تاکہ مختلف ممالک میں اتحاد کے اقدامات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔
یہ پروگرام ساحل خطے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور دیرپا استحکام کے قیام کے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔

