سٹاف رپورٹ
اسلام آباد: سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹیڈ (ایس این جی پی ایل) حکام نے مقامی گیس فیلڈز کی بندش اور درآمد شدہ ری گیسیفائیڈ لیکییوفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کو ترجیح دینے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ایس این جی پی ایل حکام کا کہنا ہے کہ تمام مقامی گیس فیلڈز مکمل طور پر فعال ہیں اور اپنی زیادہ سے زیادہ پیداوار کے مطابق گیس فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ دسمبر کے کچھ دنوں میں گیس کی سپلائی عارضی طور پر اس وقت بند کی گئی تھی جب پاور سیکٹر نے آر ایل این جی کے لیے اپنی طلب کے مطابق گیس نہیں اٹھائی۔ تاہم، گزشتہ 4-5 دنوں سے پاور سیکٹر اپنی طلب کے مطابق آر ایل این جی اٹھا رہا ہے، اور تمام گیس فیلڈز اب اپنی مکمل پیداوار کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
علاوہ ازیں، گزشتہ چار مہینوں میں گیس کی فراہمی میں مجموعی کمی 100 ایم ایم سی ایف ڈی سے بھی کم رہی ہے، جب کہ میڈیا میں شائع شدہ رپورٹ، جس میں 329 ایم ایم سی ایف ڈی کمی کا دعویٰ کیا گیا تھا، حقائق کے منافی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی فراہمی میں کمی صرف سال کے ان مہینوں میں کی جاتی ہے جب پاور سیکٹر اپنی مقررہ طلب کے مطابق گیس نہیں اٹھاتا۔
حکام نے مزید وضاحت کی کہ گیس فیلڈز زیادہ تر سال کے دوران اپنی مکمل صلاحیت پر کام کرتی ہیں اور اس دوران گیس کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے گردشی قرضے کے مسائل کو بھی حل کر لیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، گیس سپلائی کرنے والی ای اینڈ پی کمپنیاں باقاعدگی سے اپنی ادائیگیاں حاصل کر رہی ہیں، جس میں حکومت پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی گیس فیلڈز کی طویل بندش یا ضرورت سے زیادہ کمی سے متعلق تمام دعوے حقائق پر مبنی نہیں ہیں اور اس کا مقصد گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنا ہے۔

