سٹاف رپورٹ
اسلام آباد: سی پیک فیز ٹو کے آغاز کی راہ میں سب سے بڑا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ 12 سال بعد سی پیک اسپیشل اکنامک زونز کو بجلی کی فراہمی کا حتمی حل طے پا گیا ہے۔
پاور ڈویژن نے سی پیک اسپیشل اکنامک زونز کے لیے سمری کابینہ کمیٹی کو ارسال کر دی ہے، جس کے مطابق متعلقہ تقسیم کار کمپنیاں ان اکنامک زونز کے لیے بجلی کا نظام بچھائیں گی۔ ان زونز میں صنعتوں کو دیگر صنعتی اداروں کی طرح یونیفارم انڈسٹریل ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق سی پیک اکنامک زونز میں قائم ہونے والی صنعتوں کو دیگر صنعتوں کے مقابلے میں سستی بجلی فراہم نہیں کی جائے گی۔ ان صنعتوں کو 34 سے 47 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کی جائے گی۔
پچھلے کئی سالوں سے بجلی کے نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے سی پیک اسپیشل اکنامک زونز میں صنعتیں قائم نہیں ہو سکیں۔ تاہم، نئی پالیسی کے تحت، ان زونز کو پانچ سال کے لیے بجلی خریداری کا معاہدہ کرنا ہوگا، جس کے بعد متعلقہ تقسیم کار کمپنیاں نیٹ ورک بچھانے کی پابند ہوں گی۔
یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ سی پیک اسپیشل اکنامک زون کمپنی کو نیپرا سے لائسنس لینے یا اپنا نیٹ ورک تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد متعلقہ تقسیم کار کمپنیاں فوری طور پر بجلی کے نیٹ ورک بچھانے کے لیے اقدامات کریں گی۔ یہ پیش رفت سی پیک فیز ٹو کی تکمیل اور صنعتی ترقی کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

