اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے روش پاکستان پاور لمیٹڈ (RPPL) کو نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ (NPPMCL) کے حوالے کرنے کی منظوری دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو توانائی کے شعبے میں جاری اسٹرکچرل اصلاحات کا حصہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد صلاحیتی ادائیگیوں (Capacity Payments) کو کم کرنا اور صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی لانا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے “روش پاور پلانٹ کی این پی پی ایم سی ایل کو منتقلی” کے عنوان سے ایک سمری تیار کی ہے، جسے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم اور وزیر توانائی نے اس سمری کو کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلہ وزیر اعظم کی جانب سے 4 اگست 2024 کو تشکیل دی گئی ٹاسک فورس کی سفارشات کے تحت کیا جا رہا ہے، جو پاور سیکٹر میں اصلاحات کے لیے کام کر رہی ہے۔ ٹاسک فورس نے اپنی 2 ستمبر 2024 کی بریفنگ میں اور بعد ازاں 4 ستمبر 2024 کو کابینہ کے اجلاس میں پانچ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) بشمول روش پاور پلانٹ کے پاور پرچیز ایگریمنٹ (PPA) اور امپلیمینٹیشن ایگریمنٹ (IA) ختم کرنے کی تجویز دی تھی۔
حکومت اور ان پاور پروڈیوسرز کے درمیان مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت معاہدے طے شدہ رقم کی ادائیگی کے بعد ختم کر دیے جائیں گے۔ چونکہ روش پاور پلانٹ “بلڈ-اوپریٹ-اون-ٹرانسفر (BOOT)” ماڈل کے تحت قائم کیا گیا تھا، اس لیے طے پایا کہ یہ کمپلیکس اور سائٹ وفاقی حکومت یا اس کے نامزد کردہ ادارے کو صرف ایک امریکی ڈالر میں منتقل کر دی جائے گی۔
10 اکتوبر 2024 کو وفاقی کابینہ نے این پی پی ایم سی ایل کو نامزد ادارے کے طور پر منظوری دے دی، جو روش پاور پلانٹ کی ذمہ داری سنبھالے گا۔
منتقلی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے، این پی پی ایم سی ایل نے 19 نومبر 2024 کو ٹاسک فورس کے سامنے ایک تفصیلی پلان پیش کیا، جس میں منتقلی کے اخراجات، ضروری اقدامات، اور حکومتی معاونت کی تفصیلات شامل تھیں تاکہ کابینہ کے فیصلے کے مطابق 31 دسمبر 2024 تک عمل مکمل ہو سکے۔
بعد ازاں، 6 دسمبر 2024 کو ہونے والے اجلاس میں این پی پی ایم سی ایل نے کمپلیکس کی خریداری، زمین کی منتقلی، اور پلانٹ کو 6 ماہ تک “ڈرائی-پریزرویشن” میں رکھنے کے اخراجات کا تخمینہ پیش کیا۔ ٹاسک فورس نے ہدایت دی کہ پلانٹ کو فوری طور پر فعال نہ کیا جائے، جس کے بعد این پی پی ایم سی ایل نے اخراجات میں نظرثانی کی اور 9 دسمبر 2024 کو فائنل پلان پاور ڈویژن کو پیش کیا۔
اس عمل کو باضابطہ شکل دینے کے لیے، وفاقی حکومت اور این پی پی ایم سی ایل کے درمیان ایک معاہدہ تیار کر لیا گیا ہے، جو “اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (گورننس اینڈ آپریشنز) ایکٹ 2023” کے تحت کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اس سمری کو وفاقی کابینہ میں حتمی منظوری کے لیے پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد، روش پاور پلانٹ کی سرکاری شعبے میں منتقلی مکمل ہو جائے گی، جو حکومت کی توانائی کے شعبے میں وسیع اصلاحات کی پالیسی کا حصہ ہے۔

