66

پاور ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ میں 8789 ارب کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی


پی اے سی اجلاس کے دوران پاور ڈویژن کی 24-2023 کی آڈٹ رپورٹ میں 8789 ارب کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ،، پی اے سی نے ڈسکوز کے رننگ ڈیفالٹرزکی فہرست طلب کرلی ۔۔ جنید اکبرخان کی زیرِصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا ،سرمایہ کاری بورڈ کے سال 24-2023 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا ، آڈٹ حکام نے بتایاکہ سرمایہ کاری بورڈ نے 55 لاکھ سے زائد رقم دو منصوبوں کیلئے ادا کی ، سرمایہ کاری بورڈ نے موقف اپنایاکہ کورونا وبا کی وجہ سے منصوبوں کوایمرجنسی کی بنیاد پرمکمل کیا سید نویدقمر نے کہاکہ کانفرنس کرنے کیلئے ایمرجنسی رولزکے نفاذ کا کیا تعلق ہے؟پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سرمایہ کاری بورڈکو15دنوں میں ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کردی ۔پاورڈویژن کی آڈٹ رپورٹ میں 8789 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوا ،آڈٹ حکام نے بتایاکہ 1400ارب روپے کی ریکوری کی ہدایت تھی، نوڈسکوزکے 14 ہزار70 ڈیفالٹرز سے 877 ارب 59 کروڑ ریکورنہیں کے گئے کیسکو کے ڈفالٹرز نے 603 ارب روپے ادا کرنے ہیں،سیکرٹری پاور ڈویژن بولے کہ کیسکومیں 27 ہزارسے زائد ٹیوب ویلزہیں جوبل ادا نہیں کرتے، پی اے سی نے ڈسکوزکے رننگ ڈیفالٹرزکی فہرست طلب کرلی ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں