183

مدن سعودی نے خلیج عرب میں پہلی کثیر المنزلہ فیکٹری کا آغاز کر کےصنعتی قیادت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا

سعودی اتھارٹی برائے صنعتی شہروں اور ٹیکنالوجی زونز (مدن) نے دمام کے پہلے صنعتی شہر میں خلیج عرب کے خطے کی پہلی کثیر المنزلہ فیکٹری کے آغاز کا اعلان کر دیا، جس سے سعودی عرب کی صنعتی قیادت کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ منصوبہ مملکت میں صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ اور جدید مصنوعات کی فراہمی کے لیے مدن کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

یہ منفرد منصوبہ پائیدار اور عمودی صنعتی ترقی کا ایک مثالی ماڈل ہے، جس کا بنیادی مقصد صنعتی زمین کے استعمال کو مزید مؤثر بنانا اور سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔ آٹھ منزلوں پر مشتمل یہ عمارت 7,500 مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں 78 صنعتی یونٹس شامل ہیں جن کا سائز 156 مربع میٹر سے 251 مربع میٹر کے درمیان ہے۔

یہ فیکٹری خاص طور پر کاروباری حضرات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کی گئی ہے۔ مدن کا مقصد ایک مربوط صنعتی نظام قائم کرنا ہے جو صنعت کاروں کی اگلی نسل کو بااختیار بنائے اور انہیں مکمل طور پر سروس شدہ، تیار شدہ جگہیں فراہم کر کے کاروبار کے آغاز کو تیز تر بنائے۔

اس منصوبے کا ہدف خوراک، میڈیکل اور فارماسیوٹیکل انڈسٹریز کے ساتھ ساتھ الیکٹرانکس اور تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجیز جیسے اہم صنعتی شعبوں کی ترقی میں مدد فراہم کرنا ہے۔ مدن کے مطابق، یہ منصوبہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو فروغ دینے کے لیے مملکت کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

مدن نے واضح کیا کہ ایسے معیاری اور جدید منصوبے سعودی عرب کو ایک عالمی صنعتی مرکز کے طور پر مستحکم کرنے میں معاون ہیں۔ ان کے مطابق، مملکت کا جدید انفراسٹرکچر اور اسٹریٹجک لاجسٹک مقام دنیا بھر سے معیاری سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے، جو مملکت کی صنعتی تبدیلی کے ہدف کو آگے بڑھانے میں مدن کے قائدانہ کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مدن اس وقت سعودی عرب میں 39 صنعتی شہروں کا انتظام سنبھال رہا ہے، جن میں 9,000 سے زائد صنعتی، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کی سہولیات موجود ہیں۔ ان منصوبوں کی مجموعی سرمایہ کاری 463 بلین سعودی ریال سے زائد ہے، جبکہ یہ شہری و صنعتی منصوبے 220 ملین مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہیں۔ مدن نجی شعبے کے تیار کردہ صنعتی شہروں اور کمپلیکس کی لائسنسنگ اور نگرانی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کے قیام کی ذمہ داری بھی ادا کر رہا ہے۔

مدن کا یہ کثیر المنزلہ منصوبہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ خلیج عرب میں صنعتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا، جو خطے میں پائیدار صنعتی نمو کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں