اسلام آباد : آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) نے تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ اور فیلڈز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فرانس کی معروف اسپیشلٹی کیمیکل کمپنی SNF S.A. کے ساتھ ایک اہم معاہدہ طے کرلیا ہے، جس کے تحت سندھ کے ضلع حیدرآباد میں واقع کنر اور پساکھی آئل فیلڈز میں جدید واٹر انجیکشن سسٹمز (WIS) نصب اور آپریٹ کیے جائیں گے۔ اس منصوبے سے فیلڈز کی عمر کے دوران 460 ملین امریکی ڈالر تک اضافی آمدن حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
او جی ڈی سی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقدہ معاہدے کی تقریب کو کمپنی کی پیداوار بڑھانے اور پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریب میں وفاقی وزیر توانائی (پٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک، او جی ڈی سی کے ایم ڈی/سی ای او احمد حیات لک، پاکستان میں فرانس کے سفیر نکولس گیلے اور او جی ڈی سی و ایس این ایف کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

او جی ڈی سی کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد جدید ترین عالمی واٹر انجیکشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ریزروائر کا پریشر برقرار رکھنا، تیل کی ریکوری میں بہتری لانا اور پیداوار کو طویل مدت تک مستحکم بنانا ہے۔ ایس این ایف کی عالمی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس منصوبے کو تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
پہلا مرحلہ نو ماہ پر مشتمل ہوگا جس میں موبلائزیشن، انسٹالیشن، کمیشننگ اور سہولیات کی ٹیسٹنگ شامل ہوگی۔ اس کے بعد دو سالہ آپریشنز اینڈ مینٹیننس (O&M) مرحلہ ہوگا، جس دوران ایس این ایف کی جانب سے آپریشن اور دیکھ بھال کی خدمات کے ساتھ ساتھ او جی ڈی سی کے پروفیشنلز کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرام بھی فراہم کیا جائے گا۔
او جی ڈی سی کے مطابق او اینڈ ایم مدت مکمل ہونے کے بعد ٹیکنالوجی اور آپریشنل کنٹرول او جی ڈی سی کو منتقل کر دیا جائے گا، جس سے کمپنی تربیت یافتہ عملے کے ذریعے یہ سہولیات خود چلانے کے قابل ہو جائے گی۔ منصوبے کے تحت نصب کیے جانے والے سسٹمز کی ڈیزائن شدہ آپریشنل لائف تقریباً 20 سال بتائی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس منصوبے سے تیل کی پیداوار میں تقریباً 90 لاکھ بیرل اضافہ جبکہ گیس کی پیداوار میں 3 ارب مکعب فٹ تک اضافے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ آئل فیلڈز کا ریکوری فیکٹر بھی 8 سے 10 فیصد بہتر ہونے کی توقع ہے، جس سے ریزروائر میں موجود تیل کے زیادہ حصے کو نکالنا ممکن ہو سکے گا۔
او جی ڈی سی نے کہا کہ منصوبے کے نتیجے میں فیلڈز کی مجموعی معاشی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی اور اندازہ ہے کہ اضافی پیداوار کے ذریعے فیلڈز کی مدت کے دوران 460 ملین ڈالر تک اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکے گا، جو ملکی توانائی سیکٹر کے لیے ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
منصوبے کے تحت ماحولیاتی فوائد بھی نمایاں ہوں گے، کیونکہ ٹریٹ شدہ پروڈیوسڈ واٹر کو دوبارہ ریزروائر زونز میں انجیکٹ کیا جائے گا، جس سے پانی کے محفوظ تصرف کو یقینی بنایا جا سکے گا اور ماحولیاتی خطرات میں کمی آئے گی۔ او جی ڈی سی کے مطابق یہ اقدام پائیدار آپریٹنگ پریکٹسز اور عالمی ماحولیاتی معیار سے ہم آہنگ ہے۔
او جی ڈی سی نے اس تعاون کو پاکستان کے توانائی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، آپریشنل ایکسیلینس اور طویل المدتی ویلیو کری ایشن کے لیے ایک اسٹریٹجک قدم قرار دیا ہے، جس کے ذریعے عالمی معیار کے سروس پرووائیڈرز کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

