اسلام آباد: او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار میں واقع ڈارس ویسٹ-3 کنویں سے گیس اور کنڈنسیٹ کی اہم دریافت کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک کے مقامی توانائی وسائل میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

کمپنی کے مطابق درس ویسٹ-3 ترقیاتی کنواں 2,100 میٹر کی گہرائی تک کھودا گیا اور لوئر گورو فارمیشن کے سی-سینڈز میں کامیابی سے ٹیسٹ کیا گیا۔ ابتدائی جانچ کے دوران کنویں سے یومیہ 9.70 ملین مکعب فٹ (MMSCFD) گیس اور 580 بیرل یومیہ (BPD) کنڈنسیٹ حاصل ہوا۔
ٹیسٹنگ کے دوران ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر 1,725 پی ایس آئی ریکارڈ کیا گیا، جو ذخیرے کی مضبوط صلاحیت اور ڈارس ویسٹ کے علاقے میں لوئر گورو فارمیشن کی ہائیڈروکاربن استعداد کی تصدیق کرتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف او جی ڈی سی ایل کے وسائل میں اضافہ کرے گی بلکہ ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
کنویں کو کے پی ڈی-ٹی اے وائی پروسیسنگ پلانٹ سے منسلک کرنے کے لیے پائپ لائن بچھانے کا کام جاری ہے۔ تکمیل کے بعد پیدا ہونے والی گیس کو ایس ایس جی سی ایل کے نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا، جس سے قومی گیس سپلائی میں اضافہ ہوگا۔
درس ویسٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز (D&PL) مشترکہ منصوبے میں او جی ڈی سی ایل 77.5 فیصد حصص کے ساتھ آپریٹر ہے، جبکہ جی ایچ پی ایل) کے پاس 22.5 فیصد حصہ ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کامیابی ملکی اپ اسٹریم شعبے کے لیے مثبت پیش رفت ہے اور مقامی توانائی وسائل کی تلاش و ترقی میں او جی ڈی سی ایل کی مسلسل کاوشوں کا ثبوت ہے۔

