17

سعودی عرب اور فرانس میں سرمایہ کاری تعاون مزید مضبوط، فرانسیسی سرمایہ کاری 16.3 ارب یورو تک پہنچ گئی

سعودی عرب اور فرانس نے سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ سعودی عرب میں فرانسیسی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا حجم 2024 میں 16.3 ارب یورو تک پہنچ گیا، جو پانچ سال کے دوران دگنا ہو چکا ہے۔

فرانسیسی صدر کے دورے کے موقع پر پیرس میں سعودی وزارت سرمایہ کاری کے زیر اہتمام فرانسیسی-سعودی سرمایہ کاری گول میز اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، کاروباری رہنماؤں اور بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران نے شرکت کی۔

سعودی وزیر سرمایہ کاری فہد بن عبدالجلیل السیف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور فرانس کے تعلقات ایک صدی پر محیط ہیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی، صنعت، فنانس اور جدت کے شعبوں میں فرانسیسی صلاحیتوں اور سعودی وژن 2030 کے اہداف میں مضبوط ہم آہنگی کو اجاگر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ فرانسیسی سرمایہ کار اس وقت سعودی عرب میں 18 شعبوں میں 650 سے زائد سرمایہ کاری لائسنس رکھتے ہیں، جبکہ فرانس سعودی عرب میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا چوتھا بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔

سعودی وزیر کے مطابق وژن 2030 کے تحت 2017 سے سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 85 فیصد اضافہ ہوا اور گزشتہ سال یہ تقریباً 620 ارب یورو سے بڑھ کر 1.1 ٹریلین یورو تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ غیر تیل شعبوں کا حصہ اب ملکی مجموعی پیداوار میں 50 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ سرمایہ کاری اقتصادی ترقی اور تنوع کے اہم محرکات میں شامل ہو چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں سعودی عرب میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 6.1 ارب یورو رہا، جو سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد زیادہ ہے۔

فہد السیف نے کہا کہ وژن 2030 کے تحت سعودی معیشت میں آنے والی تبدیلی نے فرانسیسی کمپنیوں کے لیے مملکت میں کاروبار وسعت دینے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے توانائی، مالیاتی خدمات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جدید مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، گیمنگ اور سیاحت کو سرمایہ کاری کے لیے اہم شعبے قرار دیا۔

انہوں نے سعودی عرب اور فرانس کے درمیان تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل شعبوں میں تعاون کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صاف توانائی، قابل تجدید توانائی اور متعلقہ ٹیکنالوجیز میں تعاون مزید بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

فرانسیسی وزیر اقتصادیات و خزانہ رولان لیسکیور نے سعودی عرب اور فرانس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے توانائی اور لاجسٹکس سیکیورٹی کو دونوں ممالک کے تعاون کے اہم ستون قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالمی توانائی مارکیٹ کے استحکام میں ایک قابل اعتماد شراکت دار ثابت ہوا ہے اور مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان توانائی اور لاجسٹکس کے حوالے سے ایک اہم رابطہ ہے۔

اجلاس میں ’’سعودی عرب اور فرانس: مستقبل کے لیے شراکت داری‘‘ کے عنوان سے خصوصی سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں نجی شعبے کے درمیان تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران تبدیلی کے حامل منصوبوں کی مالی معاونت، صنعتی شراکت داری کو قابل عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے فروغ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سمیت اہم شعبوں میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 2024 میں سعودی عرب میں فرانسیسی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم 63.9 ارب سعودی ریال رہا، جبکہ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 44.2 ارب سعودی ریال تک پہنچ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں