4

پی ایم آئی ایف 2026: پاکستان کے معدنی وسائل عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے کی تیاری

اسلام آباد:پاکستان اپنے اہم معدنی وسائل، نئے کان کنی منصوبوں اور معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرے گا، پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 میں معدنی تلاش، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دی جائے گی۔

پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 اسلام آباد میں 12 اور 13 نومبر کو منعقد ہوگا، جس میں حکومتی حکام، کان کنی کمپنیوں، سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور تکنیکی ماہرین کی شرکت متوقع ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف فورم سے کلیدی خطاب کریں گے، جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی فورم سے خطاب کریں گے۔ وفاقی وزیر برائے توانائی، پٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک استقبالیہ خطاب کریں گے۔

او جی ڈی سی ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پی ایم آئی ایف کے صدر احمد حیات لک اختتامی خطاب کریں گے۔

فورم کے دوران پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے پالیسی اور ادارہ جاتی فریم ورک، معدنی تلاش کے لیے مالی معاونت، اہم معدنیات، جیولوجیکل ڈیٹا، انفراسٹرکچر، ہنرمند افرادی قوت اور معدنی پروسیسنگ سمیت مختلف امور پر غور کیا جائے گا۔

فورم کے افتتاحی سیشن ’’Building Investor-Ready Mining Jurisdictions‘‘ میں کان کنی کے شعبے میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے پالیسی تسلسل اور ادارہ جاتی ماحول کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایک اہم سیشن میں معدنی تلاش کے ابتدائی مرحلے میں سرمایہ کاری کے مسائل کا جائزہ لیا جائے گا، جہاں مالیاتی ادارے، قرض دہندگان اور کان کنی کے ماہرین تلاش کے منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنے اور ان سے وابستہ خطرات سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

فورم میں پاکستان کے نئے کان کنی منصوبوں اور فعال لائسنسوں سے سامنے آنے والی اہم دریافتوں پر بھی توجہ دی جائے گی، جن میں اینٹیمنی سے متعلق پیش رفت شامل ہے۔

ریکو ڈک بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر معدنی ترقی، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور تکنیکی صلاحیتوں کے حوالے سے اہم موضوع رہے گا۔

کان کنی کے منصوبوں کے لیے ریلوے رابطوں، بجلی، پانی، سکیورٹی، برآمدی راستوں اور سی پیک رابطوں سمیت انفراسٹرکچر کی ضروریات بھی زیر بحث آئیں گی۔

فورم میں جیولوجیکل ڈیٹا کی اہمیت پر بھی توجہ دی جائے گی۔ پاکستان جیولوجیکل سروے اور بین الاقوامی جیولوجیکل اداروں کے درمیان تکنیکی تعاون اور ڈیٹا شیئرنگ کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

فورم کے تکنیکی اجلاس میں 50 سے زائد تحقیقی مقالے پیش کیے جائیں گے، جن میں معدنی تلاش، وسائل کے تخمینے، اہم معدنیات، توانائی کی منتقلی سے متعلق معدنیات، پروسیسنگ، ٹیکنالوجی اور پائیداری کے موضوعات شامل ہوں گے۔

پروگرام میں تانبہ، لیتھیم، نکل، کوبالٹ، گریفائٹ اور نایاب زمینی عناصر سمیت مختلف معدنیات پر بھی بحث ہوگی، جبکہ معدنیات کی پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، آٹومیشن، فضلے میں کمی اور ضمنی مصنوعات کی بازیابی بھی زیر غور آئے گی۔

فورم میں نیشنل منرلز کیپبلیٹی ڈویلپمنٹ پروگرام بھی پیش کیا جائے گا، جس کا مقصد کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بڑھنے کے ساتھ جیولوجی، مائننگ انجینئرنگ، معدنی پروسیسنگ اور ماحولیاتی انتظام سمیت متعلقہ شعبوں میں مقامی تکنیکی مہارت کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں