22

پیٹرولیم وزیر کا ایس ایس جی سی ایل بورڈ پر یو ایف جی، نقصانات اور گورننس اصلاحات پر زور

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے بورڈ پر زور دیا ہے کہ یو ایف جی پر قابو پانے، نقصانات کم کرنے اور گورننس کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع اصلاحاتی حکمت عملی اور پائیدار کاروباری ماڈل تشکیل دیا جائے تاکہ کمپنی کو مالی طور پر مستحکم اور خود کفیل بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے یہ بات کراچی میں ایس ایس جی سی ایل کے چیئرمین، بورڈ آف ڈائریکٹرز، منیجنگ ڈائریکٹر اور سینئر انتظامیہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کمپنی کی کارکردگی، اہم کامیابیوں، آپریشنل چیلنجز اور مستقبل کی اصلاحاتی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔

ایس ایس جی سی ایل کی انتظامیہ نے اجلاس کو کمپنی کے گیس ڈسٹری بیوشن سسٹم میں نمایاں بہتری سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حجمی بنیاد پر یو ایف جی میں تقریباً 57 فیصد کمی لائی گئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کے الیکٹرک، صنعتی صارفین اور کھاد بنانے والے پلانٹس کے لیے گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی، جبکہ گھریلو صارفین کو دن میں تین مرتبہ گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ گیس کے گردشی قرضے میں اضافے کو تقریباً روک دیا گیا ہے، جو گیس سیکٹر کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قیمتوں کے سلیب کے ذریعے گیس سبسڈی فراہم کرنے کے موجودہ نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام صارفین کے لیے ایک منصفانہ گیس قیمت کی جانب منتقلی پر زور دیا، جبکہ کمزور طبقات کو ہدفی سماجی تحفظ کے پروگرامز کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کی تجویز دی۔

انہوں نے کہا کہ اس منتقلی سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور صارفین کے متبادل ایندھن کی جانب منتقلی کو کم کیا جا سکے گا۔

وفاقی وزیر نے ایس ایس جی سی ایل بورڈ پر زور دیا کہ کمپنی کو خود کفیل بنانے، آپریشنل کارکردگی اور انسانی وسائل کی صلاحیت بہتر کرنے، نقصانات اور گیس چوری کم کرنے، ریونیو ریکوری مضبوط بنانے اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے جامع کاروباری اصلاحاتی حکمت عملی مرتب کی جائے۔

سیکریٹری پیٹرولیم نے اجلاس میں زور دیا کہ ایس او ای ایکٹ کی روح کے مطابق ایس ایس جی سی ایل کا بورڈ آزادانہ طور پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو اپنے مینڈیٹ کے مطابق کمپنی کی بہتری، کارکردگی اور طویل مدتی پائیداری کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت عالمی بینک کے ساتھ جامع گیس سیکٹر اصلاحات پر پہلے ہی کام کر رہی ہے، جن کا مقصد ساختی مسائل کو حل کرنا اور گیس سیکٹر کو زیادہ مؤثر، پائیدار اور مالی طور پر قابل عمل بنانا ہے۔

بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کے دوران ایس ایس جی سی ایل بورڈ نے ڈپٹی وزیراعظم کی سربراہی میں بلوچستان کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے سیاسی کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا اور اسے صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے بلوچستان میں گیس کی فراہمی سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر زور دیا اور تکنیکی مسائل، انفراسٹرکچر کی رکاوٹوں اور گیس چوری سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے بلوچستان میں گیس کی دستیابی اور سروس ڈلیوری بہتر بنانے کے لیے پائیدار حل تلاش کرنے پر زور دیا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ تمام آپریشنل، مالی اور اسٹریٹجک فیصلوں میں عوامی خدمت اولین ترجیح رہنی چاہیے، جبکہ کمپنی کی طویل مدتی پائیداری یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں