21

ٹیلی کام آپریٹرز کا G2G معاہدوں کے خاتمے کا مطالبہ

اسلام آباد: ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن (TOA) نے حکومت سے پبلک پروکیورمنٹ رولز کے تحت سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کی اجازت ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حکومت سے براہ راست G2G معاہدوں کا بڑھتا ہوا رجحان نجی شعبے کو آئی ٹی، ٹیلی کام اور ڈیجیٹل سروسز کی مارکیٹ سے باہر کر رہا ہے۔

ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کو خط لکھ کر پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کی شق 42(f) ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس شق کو 28 جون 2021 کو ایس آر او نمبر 834(I)/2021 کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا، جس کے تحت عوامی مفاد میں وقت کی پابندی والے کاموں اور خدمات کے لیے سرکاری اداروں کے ساتھ براہ راست معاہدہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

TOA کے مطابق اس شق کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے متعدد آئی ٹی اور ٹیلی کام منصوبے مسابقتی بولی کے بغیر براہ راست G2G معاہدوں کے ذریعے سرکاری اداروں کو دیے ہیں۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ اس عمل نے نجی شعبے کو شدید طور پر محدود کر دیا ہے، حالانکہ نجی کمپنیوں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انفراسٹرکچر اور خدمات میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی اور قومی خزانے کو نمایاں ٹیکس ادا کیا۔

TOA کے مطابق یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہو گیا ہے کہ پاکستان کی ٹیلی کام صنعت روایتی کنیکٹیویٹی اور انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور دیگر ڈیجیٹل سروسز کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ تمام آپریٹرز نے ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ، اے آئی اور ڈیجیٹل سروسز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور کئی کمپنیاں برآمدی مارکیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں، جس کے لیے مضبوط مقامی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم ضروری ہے۔

TOA کے مطابق حکومت آئی ٹی، ٹیلی کام اور ڈیجیٹل سروسز کی سب سے بڑی خریداروں میں شامل ہے، اس لیے سرکاری منصوبوں تک رسائی مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے انتہائی اہم ہے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں جانے سے قبل ملکی سطح پر اپنی مصنوعات اور خدمات کا عملی ریکارڈ قائم کر سکیں۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ پاکستانی ڈیجیٹل مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل ہونے سے پہلے اپنی مصنوعات اور خدمات کو ملکی مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے مواقع درکار ہیں۔

TOA نے براہ راست G2G معاہدوں سے پیدا ہونے والے مسابقتی عدم توازن پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ریاستی اداروں یا ترجیحی G2G ٹھیکیداروں کو بعض اوقات ایسے ریگولیٹری استثنیٰ، ترجیحی لائسنسنگ اور بالواسطہ حکومتی ضمانتیں حاصل ہوتی ہیں جو نجی کمپنیوں کو دستیاب نہیں ہوتیں۔

TOA نے مؤقف اختیار کیا کہ جب ریاست ریگولیٹر کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں ایک بڑے آپریٹر کا کردار بھی ادا کرتی ہے تو نجی کاروباری اداروں کے لیے مارکیٹ میں داخلے کی رکاوٹیں بڑھ جاتی ہیں، جس سے آزادانہ تحقیق، ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

ایسوسی ایشن نے مسابقتی بولی کے بغیر منصوبوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسابقتی دباؤ نہ ہونے کی صورت میں سرکاری اداروں کے پاس اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ترغیب کم ہو جاتی ہے۔

TOA نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ G2G منصوبے سرکاری اداروں کو ملنے کے بعد بعض SOEs یہ کام اپنے پسندیدہ نجی ٹھیکیداروں کو بغیر مسابقتی بولی کے ذیلی ٹھیکوں کی صورت میں دے دیتے ہیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق اس عمل سے شفافیت اور احتساب کے پورے نظام کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

TOA نے روزگار کے مواقع پر بھی اس پالیسی کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے نجی کاروباری ادارے بالخصوص تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ نجی شعبے کو سرکاری منصوبوں سے محروم کرنے سے ان کاروباری اداروں کی ترقی متاثر ہوگی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت بھی محدود ہو سکتی ہے۔

TOA نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، پاکستان اسٹیل ملز اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مثال دیتے ہوئے ریاستی اداروں کے بڑھتے ہوئے تجارتی کردار کے وسیع تر معاشی اثرات پر بھی سوال اٹھایا۔

ایسوسی ایشن نے وزیراعظم شہباز شریف کے اس مؤقف کا بھی حوالہ دیا کہ “حکومت کا کاروبار چلانے سے کوئی تعلق نہیں۔”

TOA نے کہا کہ ریاستی ادارے بڑی حد تک ٹیکس دہندگان، بشمول نجی شعبے، سے حاصل ہونے والے وسائل سے قائم کیے جاتے ہیں، لیکن بعد ازاں انہی نجی کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے انہیں سرکاری منصوبوں تک ترجیحی رسائی دی جاتی ہے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پبلک پروکیورمنٹ رولز کی شق 42(f) ختم کی جائے اور سرکاری اداروں کو بھی حکومت کی جانب سے فنڈ کیے جانے والے منصوبوں کے حصول کے لیے نجی شعبے کی طرح کھلی اور مسابقتی بولی کے عمل میں حصہ لینے کا پابند کیا جائے۔

TOA نے واضح کیا کہ “SOEs کو سرکاری فنڈز سے چلنے والے منصوبوں میں کسی بھی نجی شعبے کے ادارے کی طرح مقابلہ کرنا چاہیے۔”

خط پر TOA کے سیکریٹری جنرل کمال احمد نے دستخط کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں