18

ایک اور پٹرولیم بم: پٹرول 1.08 روپے، ڈیزل 51 پیسے مہنگا

اسلام آباد: روزانہ پٹرولیم قیمتوں کے نئے نظام کے تحت 2 ستمبر کے لیے پٹرول کی قیمت میں 1.08 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 51 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا، جس کے بعد قیمتیں بالترتیب 343.87 روپے اور 370.92 روپے فی لیٹر ہوگئی ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نظرثانی شدہ روزانہ پٹرولیم قیمتوں کے نظام کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں میں تبدیلی کی ہے۔

موٹر اسپرٹ، جسے عام طور پر پٹرول کہا جاتا ہے، کی ایکس ڈپو قیمت 342.79 روپے سے بڑھا کر 343.87 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے، جس میں 1.08 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 370.41 روپے سے بڑھا کر 370.92 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قیمت میں 51 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔

نظرثانی شدہ قیمتیں روزانہ پٹرولیم قیمتوں کے نئے نظام کے تحت 2 ستمبر 2026 کے لیے قابلِ اطلاق ہوں گی۔

پٹرول اور ڈیزل کی تازہ قیمتوں میں اضافہ ایک روز بعد سامنے آیا ہے، کیونکہ یکم ستمبر کے لیے پٹرول کی قیمت میں 77 پیسے فی لیٹر اضافہ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.03 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔

تازہ اضافے کے بعد 2 ستمبر کو صارفین کو ٹرانسپورٹ کے دونوں اہم ایندھن کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا ہوگی۔ پٹرول استعمال کرنے والوں پر نسبتاً زیادہ بوجھ پڑے گا، جبکہ ڈیزل صارفین کو بھی ایک روزہ ریلیف کے بعد دوبارہ اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پٹرول موٹر سائیکلوں، نجی گاڑیوں، ٹیکسیوں، رکشوں اور دیگر ہلکی مسافر گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں معمولی تبدیلی بھی لاکھوں صارفین کے روزمرہ سفری اخراجات کو متاثر کرسکتی ہے۔

درمیانے اور کم آمدن والے گھرانے بالخصوص پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے دفاتر، تعلیمی اداروں، بازاروں اور دیگر مقامات تک آمدورفت کرتے ہیں۔

پٹرول کی قیمت میں تازہ اضافے سے ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیوروں کے روزانہ آپریٹنگ اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں، کیونکہ ان کی آمدن کا براہ راست انحصار گاڑیوں کے استعمال اور ایندھن کے اخراجات پر ہوتا ہے۔

دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کا معاشی اثر نسبتاً وسیع ہے کیونکہ یہ ٹرکوں، بسوں، کمرشل گاڑیوں اور بھاری مشینری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مال برداری اور مسافر ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

پاکستان کے زرعی شعبے میں بھی ڈیزل کا اہم کردار ہے اور ٹریکٹرز، ٹیوب ویلز، تھریشرز اور دیگر زرعی مشینری چلانے کے لیے ڈیزل استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی اور نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے اثرات صرف براہ راست صارفین تک محدود نہیں رہتے بلکہ اشیا کی ترسیل کے پورے نظام پر پڑ سکتے ہیں۔ ملک میں مال برداری کا ایک بڑا حصہ ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے ذریعے ہوتا ہے، جس کے باعث پیداواری مراکز سے منڈیوں اور مارکیٹوں تک اشیا پہنچانے کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔

مختلف کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں ڈیزل سے چلنے والی مشینری اور آلات کے استعمال کے باعث قیمت میں اضافہ ان اداروں کے آپریٹنگ اخراجات کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

تازہ ردوبدل نظرثانی شدہ روزانہ پٹرولیم قیمتوں کے نظام کے تحت کیا گیا ہے، جس میں عالمی پٹرولیم مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں ایکس ڈپو قیمتوں میں زیادہ تواتر سے ردوبدل کیا جاتا ہے۔

تازہ اضافے کے بعد 2 ستمبر 2026 کے لیے پٹرول کی قیمت 343.87 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 370.92 روپے فی لیٹر مقرر ہوگی۔

یوں روزانہ قیمتوں کے نئے نظام کے تحت پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے، جس سے صارفین، ٹرانسپورٹرز، کاروباری اداروں اور دیگر ایندھن استعمال کرنے والے شعبوں کے اخراجات پر مزید دباؤ پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں