مانیٹرنگ ڈیسک
یمن کے حوثی باغیوں اور صومالیہ میں القاعدہ کے سب سے بڑے اور دولت مند دھڑے الشباب کے درمیان بڑھتا ہوا خفیہ تعاون خلیج عدن میں ایک اہم تیل بردار بحری راستے کے لیے نیا خطرہ بن گیا ہے، وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ یکم ستمبر 2026 کو امریکی اخبار The Wall Street Journal میں شائع ہوئی، جس کے مصنف Michael M. Phillips ہیں۔ رپورٹ کی اصل سرخی “Washington’s Deadly New Headache: an al Qaeda-Houthi Terrorist Alliance” ہے، جبکہ ذیلی سرخی میں کہا گیا ہے کہ ایک شخص نے دو عسکریت پسند گروہوں کے درمیان اسلحے کی تجارت میں مدد دی جو مشرق وسطیٰ کے ایک اور اہم تیل بردار بحری راستے کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس تعلق کو مضبوط بنانے میں صومالی عسکریت پسند Jibril “One-Armed” Yahya Ali نے مرکزی کردار ادا کیا، جو کم از کم 2023 سے الشباب اور حوثیوں کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کر رہا تھا۔
جرنل کے مطابق جبرئیل نے حوثیوں سے فوجی نوعیت کے ہتھیار حاصل کرنے اور انہیں الشباب تک پہنچانے میں مدد کی۔ اس تعلق سے دونوں گروہوں کو فائدہ حاصل ہوا۔ الشباب کے پاس مالی وسائل موجود تھے لیکن اسے جدید ہتھیاروں اور فوجی تربیت کی ضرورت تھی، جبکہ حوثیوں کے پاس جدید ہتھیار اور تکنیکی مہارت تھی مگر وہ رقم اور خلیج عدن کے دوسری جانب اپنی رسائی بڑھانے کے لیے ایک نئی جگہ چاہتے تھے۔
دونوں گروہوں کی مذہبی اور تاریخی بنیادیں مختلف ہونے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل سے مشترکہ دشمنی نے انہیں قریب لانے میں کردار ادا کیا، امریکی، صومالی اور یمنی حکام نے جرنل کو بتایا۔
جبرئیل 12 فروری کو مشرقی یمن کے علاقے الغیضہ کے قریب ایک میزائل حملے میں ہلاک ہوا۔ وہ اپنی نئی شادی شدہ یمنی اہلیہ کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔ دو امریکی ذرائع نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ حملہ امریکہ نے کیا تھا۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ فوجی کارروائی نہیں تھی، جبکہ سی آئی اے نے اس بارے میں تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا وہ حملے کی ذمہ دار تھی۔
جرنل کے مطابق جبرئیل کی ہلاکت کے باوجود دونوں گروہوں کے درمیان تعاون ختم نہیں ہوا۔
ایک امریکی فوجی انٹیلی جنس عہدیدار نے جرنل کو بتایا کہ کم از کم 100 الشباب جنگجو حوثیوں سے تربیت حاصل کرنے کے لیے یمن جا چکے ہیں۔ انہیں بم سازی، طیارہ شکن کارروائیوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کی تربیت دی گئی۔ ایک گروپ نے مبینہ طور پر یمن کے صوبہ صعدہ میں تقریباً تین ماہ گزارے جہاں اسے ڈرون تیار کرنے اور انہیں چلانے کی تربیت دی گئی۔
حوثی تربیت کاروں کے صومالیہ جا کر الشباب کے ارکان کو تربیت دینے کی بھی اطلاعات ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ تعاون اب صرف اسلحے کی منتقلی اور ثالثوں تک محدود نہیں رہا۔ جون میں حوثیوں کے چار رکنی وفد نے خلیج عدن عبور کی اور جنوبی صومالیہ پہنچ کر الشباب کے زیرکنٹرول علاقے کے مرکز جلب میں گروپ کے نمائندوں سے ملاقات کی۔
رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں صومالیہ کی بندرگاہ بربرہ میں اسرائیلی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون پر بات ہوئی۔ حوثیوں کو خدشہ ہے کہ بربرہ اسرائیل کے لیے یمن کی نگرانی یا حملوں کے لیے ایک مستقل اڈہ بن سکتی ہے۔
جرنل کے مطابق حوثیوں نے الشباب کو مزید جدید ہتھیار اور تربیت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔
اس تعلق کی اہمیت اس کے جغرافیائی محل وقوع میں ہے۔ خلیج عدن بحیرہ احمر کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور باب المندب کے قریب واقع ہے، جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
افریقی ساحل پر حوثیوں کی بڑھتی ہوئی رسائی انہیں تجارتی اور توانائی کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی اضافی صلاحیت دے سکتی ہے، جبکہ الشباب کو ایسے ہتھیار اور تکنیکی مہارت حاصل ہو سکتی ہے جو اس کے پاس پہلے موجود نہیں تھی۔
افریقہ میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈگن اینڈرسن نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ اس تعلق کے اثرات صومالیہ اور یمن تک محدود نہیں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ الشباب کو زیادہ جدید ہتھیاروں اور تربیت تک رسائی حاصل ہو رہی ہے، جبکہ حوثی اپنی جغرافیائی رسائی بڑھا رہے ہیں اور دنیا کے اہم ترین اقتصادی بحری راستوں میں سے ایک کو مزید غیر مستحکم کرنے کے لیے قدم جما رہے ہیں۔
ان کے بقول، “یہ صرف علاقائی مسئلہ نہیں، اس کے عالمی اثرات ہیں۔”

