36

او جی ڈی سی ایل اور پن اسٹیک کا لیتھیم و نایاب معدنیات کی تلاش کے لیے معاہدہ

2 ہزار سے زائد نمونوں کا تجزیہ، تیل و گیس کے پیدا شدہ پانی سے اہم معدنیات نکالنے کے امکانات کا جائزہ

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پن اسٹیک) کے ساتھ تیل و گیس کے کنوؤں سے حاصل ہونے والے پانی اور نمکین پانی میں لیتھیم، نایاب زمینی عناصر، قیمتی دھاتوں اور دیگر اہم معدنیات کی موجودگی کا جائزہ لینے کے لیے معاہدہ کر لیا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب او جی ڈی سی ایل ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ہوئی جس میں او جی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد حیات لک، کمپنی کی سینئر انتظامیہ اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور پن اسٹیک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

معاہدے کے تحت پن اسٹیک او جی ڈی سی ایل کے منتخب کنوؤں سے حاصل ہونے والے پیدا شدہ پانی اور نمکین پانی کا جدید انڈکٹیولی کپلڈ پلازما تکنیک کے ذریعے تجزیہ کرے گا، جس کے ذریعے لیتھیم، نایاب زمینی عناصر، قیمتی دھاتوں اور تابکار عناصر کی مقدار کا تعین کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے او جی ڈی سی ایل کے ممکنہ کنوؤں سے 2 ہزار سے زائد نمونے حاصل کیے جائیں گے۔ اس بڑے پیمانے پر تجزیے سے کمپنی کے پیدا شدہ پانی سے متعلق ایک جامع جیو کیمیکل ڈیٹا بیس تیار کرنے میں مدد ملے گی اور یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ کن کنوؤں اور علاقوں میں لیتھیم اور دیگر اہم معدنیات کا ارتکاز زیادہ ہے۔

حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر کنوؤں کی لیتھیم اور نایاب زمینی عناصر کی مقدار کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے گی جبکہ زیادہ اور کم ارتکاز والے علاقوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔ یہ معلومات پانی سے براہ راست لیتھیم نکالنے کی ٹیکنالوجی کی عملی اور معاشی افادیت کا جائزہ لینے کے لیے تکنیکی بنیاد فراہم کریں گی۔

او جی ڈی سی ایل نے روایتی تیل و گیس کے کاروبار سے آگے بڑھتے ہوئے معدنیات اور توانائی کے نئے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے لیے کام شروع کر رکھا ہے۔ پیدا شدہ پانی، جسے عموماً تیل و گیس کی پیداوار کے بعد فضلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اب لیتھیم اور دیگر اہم معدنیات کے ممکنہ ذریعے کے طور پر زیر غور ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے ابتدائی تجرباتی کام کے دوران وحید بخش۔01 کنویں میں جیو تھرمل نمکین پانی میں 291 ملی گرام فی لیٹر لیتھیم کی موجودگی سامنے آئی تھی۔ کمپنی کے مطابق یہ مقدار عالمی سطح پر معروف لیتھیم سے بھرپور جیو تھرمل نمکین پانی میں پائی جانے والی مقدار کے مقابلے میں ہے۔

نئے معاہدے کے تحت 2 ہزار سے زائد نمونوں کے تجزیے سے ابتدائی نتائج کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع سائنسی ڈیٹا حاصل ہوگا، جس سے یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ لیتھیم اور دیگر اہم معدنیات کے ذخائر کن علاقوں میں موجود ہیں اور ان کے حصول کے مزید امکانات کیا ہیں۔

لیتھیم بیٹریوں، الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام سمیت متعدد جدید ٹیکنالوجیز میں استعمال ہونے والا اہم معدنی عنصر ہے، جبکہ نایاب زمینی عناصر جدید صنعت، الیکٹرانکس اور دیگر ہائی ٹیک شعبوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم کسی کنویں یا پانی میں لیتھیم اور دیگر معدنیات کی موجودگی سے ان کے تجارتی طور پر قابل استعمال ہونے کا حتمی تعین نہیں ہوتا۔ معدنیات کا ارتکاز، نکاسی کی ٹیکنالوجی، بازیابی کی شرح، پروسیسنگ لاگت، انفراسٹرکچر اور مارکیٹ کی صورتحال اس منصوبے کی معاشی افادیت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔

او جی ڈی سی ایل اور پن اسٹیک کے درمیان معاہدے کا مقصد اسی سائنسی اور تکنیکی بنیاد کو مضبوط بنانا ہے تاکہ پاکستان میں پیدا شدہ پانی اور جیو تھرمل وسائل سے لیتھیم اور دیگر اہم معدنیات کے حصول کے امکانات کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں