اسلام آباد: آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال کے باعث حکومت نے اکتوبر میں قطر سے ایل این جی کے 3 کارگو لینے کا فیصلہ کرلیا، جبکہ محفوظ ترسیل کیلئے ایرانی حکام سے رابطے کی تیاری بھی شروع کردی گئی۔
ذرائع کے مطابق حکومت ایل این جی کارگوز کی محفوظ اور بلا تعطل گزرگاہ یقینی بنانے کیلئے ایرانی حکام سے رابطہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ سمندری راستے میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ سے بچا جاسکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اکتوبر کے دوران قطر سے ایل این جی کے 3 کارگو حاصل کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب خطے میں توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔
یہ پیش رفت قطر انرجی کی جانب سے پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی پر فورس میجور کی مدت 4 نومبر تک بڑھائے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
حکام کو خدشہ ہے کہ توانائی کی ترسیل میں پیدا ہونے والا تعطل آنے والے موسم سرما تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کے باعث ملک میں گیس کی طلب اور رسد کے درمیان دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
حکومت نے ممکنہ گیس بحران سے نمٹنے کیلئے فوری اور متبادل اقدامات پر کام شروع کردیا ہے تاکہ موسم سرما میں گیس کی دستیابی کو برقرار رکھا جاسکے۔
ایل این جی کارگو کی محفوظ ترسیل کیلئے ایرانی حکام سے رابطے کا مقصد سمندری راستے میں ممکنہ رکاوٹوں کے خطرے کو کم کرنا اور درآمدی گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال نے پاکستان کیلئے ایل این جی سپلائی سیکیورٹی کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے، کیونکہ مقامی گیس کی محدود دستیابی کے باعث درآمدی ایل این جی ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
موسم سرما میں گیس کی طلب بڑھنے کے پیش نظر حکومت کی جانب سے متبادل انتظامات پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے تاکہ ممکنہ سپلائی تعطل کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔

