اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسم سرما میں گیس کی طلب و رسد کو متوازن رکھنے کیلئے جامع لوڈ مینجمنٹ پلان تیار کرنے اور تمام ضروری اقدامات پیشگی مکمل کرنے کی ہدایت کردی، مقامی گیس میں گھریلو صارفین کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت موسم سرما میں گیس لوڈ مینجمنٹ سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں متعلقہ حکام نے گیس کی طلب و رسد کی صورتحال اور موسم سرما کیلئے کیے جانے والے پیشگی اقدامات پر بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ موسم سرما میں مقامی گیس کی فراہمی میں گھریلو صارفین کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ بجلی کی پیداوار اور صنعتی ضروریات پوری کرنے کیلئے آر ایل این جی کو ترجیح حاصل ہوگی۔
حکام نے بتایا کہ گھریلو سطح پر مقامی گیس کے بجائے متبادل ذرائع توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کیلئے عوامی آگہی مہم بھی شروع کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے شمالی علاقوں میں موجود گیس کے ذخائر سے بلا تعطل ترسیل یقینی بنانے کیلئے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں گیس کی بلا تعطل درآمد یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کردی۔
اجلاس میں پانی گرم کرنے اور گھروں کی حرارت کیلئے بجلی سے چلنے والے آلات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کیلئے بینک فنانسنگ کی سہولت متعارف کرانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
مجوزہ فنانسنگ سہولت کے ذریعے صارفین کو پانی اور اسپیس ہیٹنگ کیلئے بجلی سے چلنے والے آلات کے استعمال کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس سے موسم سرما میں گیس کی طلب پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
حکومت کی جانب سے موسم سرما کیلئے پیشگی گیس لوڈ مینجمنٹ کی تیاری کا مقصد گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور صنعتی شعبے کی ضروریات کو متوازن انداز میں پورا کرنا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ موسم سرما میں گیس کی ضروریات پوری کرنے کیلئے تمام اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں اور طلب و رسد کے ممکنہ دباؤ سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔

