13

پٹرول 1.54 روپے، ڈیزل 2.16 روپے فی لیٹر مہنگا

اسلام آباد: حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 1.54 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.16 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 379.25 روپے اور ڈیزل کی قیمت 395.82 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 27 اکتوبر سے ہوگا، جس سے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے سفری اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔

پٹرول کی سابقہ قیمت 377.71 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 393.66 روپے فی لیٹر تھی۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے موٹر سائیکل سواروں، نجی گاڑیوں کے مالکان، مسافروں اور کاروباری شعبے کے اخراجات بڑھیں گے۔ پٹرول عام طور پر نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ ڈیزل پبلک ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں، زرعی مشینری اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے لیے اہم ایندھن ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے مال برداری اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ، بالخصوص خوراک کی ترسیل اور قیمتوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم، صارفین کو اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں، اس کا انحصار ٹرانسپورٹرز اور کاروباری اداروں کی جانب سے اضافی اخراجات صارفین کو منتقل کرنے پر ہوگا۔

نئی قیمتوں کے تحت 20 لیٹر پٹرول خریدنے والے صارف کو سابقہ قیمت کے مقابلے میں 30.80 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے، جبکہ 50 لیٹر ڈیزل خریدنے والے صارف کے اخراجات میں 108 روپے کا اضافہ ہوگا۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل کی وجہ عالمی منڈی کے عوامل میں تبدیلی ہے، جن میں پلیٹس قیمتیں، پریمیم اور دیگر ضمنی اخراجات شامل ہیں۔

تازہ اضافے سے ایسے وقت میں عوام پر مزید مالی دباؤ پڑے گا جب گھرانے پہلے ہی بجلی، خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی ضروریات کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نئی قیمتیں اگلے مقررہ جائزے یا حکومت کی جانب سے کسی نئے اعلان تک لاگو رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں