ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پاکستان) نے اسپیکر، صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے دفتر کے اشتراک سے ارکان صوبائی اسمبلی کے ساتھ پشاور میں ایک اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد کیا، اس مشاورت کا مقصد کاربن مارکیٹس کے حوالے سے اس کی قانون سازی اور پاکستان کی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی پیش کرنا تھا۔
تفصیلات کے مطابق اس اجلاس کے دوران ٹی آئی پاکستان نے کاربن مارکیٹس گورننس کی بہتری کے لیے قانون سازی کا روڈ میپ پیش کیا، جس میں پاکستان میں شفاف، جوابدہ اور قابلِ اعتماد کاربن مارکیٹ کے قیام کے لیے درکار اہم قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا خاکہ پیش کیا گیا۔
ٹی آئی پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کاشف علی نے ارکانِ اسمبلی کو مجوزہ روڈ میپ پر بریفنگ دیتے ہوئے چار ترجیحی شعبوں پر روشنی ڈالی۔ ان میں ایک جامع کاربن مارکیٹس فریم ورک ایکٹ کی منظوری، کاربن کریڈٹس اور بین الاقوامی طور پر منتقل کیے جانے والے تخفیفی نتائج کی ملکیت اور منتقلی سے متعلق واضح قانونی دفعات، پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 سے ہم آہنگ قومی مانیٹرنگ، رپورٹنگ اور تصدیق کا نظام، کاربن اخراج ڈیٹا کے بیس لائن کا قیام، کاربن مارکیٹ منصوبوں میں فوائد کی منصفانہ تقسیم، مقامی کمیونٹیز کے تحفظ، آزادانہ، پیشگی اور باخبر رضامندی کا نظام اور مؤثر شکایات کے ازالے کے نظام کا قیام شامل ہیں۔
اجلاس کی صدارت ایس ڈی جیز ٹاسک فورس کے کنوینر، آصف خان محسود نے کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط قانونی فریم ورک اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ کاربن مارکیٹس پاکستان کے موسمیاتی اہداف اور پائیدار ترقی کے مقاصد کے حصول میں مؤثر کردار ادا کریں۔ صوبائی محکمہ برائے کلائمٹ چینج، اینڈ فاریسٹری کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈویلپمنٹ، احمد کمال نے خیبر پختونخوا کے وسیع جنگلاتی وسائل کو صوبے کا اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاربن مارکیٹس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت، تکنیکی مہارت اور سرمایہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے توانائی و بجلی، داؤد شاہ آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا اپنے کامیاب شجر کاری منصوبوں کی بنیاد پر کلائمٹ فنانس حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ شفافیت، جوابدہی اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جائے۔
مشاورتی اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ صوبائی اسمبلی نے شرکت کی، جن میں جوہر محمد، زاہد اللہ خان، داؤد شاہ آفریدی، انور زیب خان، شاہ ابو تراب، اورنگزیب خان، گل ابراہیم، عبدالسلام آفریدی، شرافت علی، محمد ریاض، افتخار علی مشوانی، شیر علی آفریدی، ارباب محمد عثمان خان، ارباب زرک خان، علی ہادی، مہر سلطانہ، فرح خان، جمیلہ پراچہ، ناہیدہ نور، گرپال سنگھ اور خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشنز ارشد احمد شامل تھے۔
اجلاس میں تکنیکی ماہرین ماہر ماحولیات حمزہ رافع بٹ، اور منیجنگ پارٹنر سہیل اینڈ پارٹنرز، بلند سہیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کو کاربن مارکیٹس کے حوالے سے حاصل تقابلی برتری پر روشنی ڈالی اور گورننس و ریگولیٹری نظام میں موجود اہم خلا کی نشاندہی کی، جنہیں مؤثر قانون سازی کے ذریعے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
ٹی آئی پاکستان کے چیئرمین جسٹس (ر) ضیا پرویز نے اپنے اختتامی کلمات میں اس بات پر زور دیا کہ کاربن مارکیٹس میں شفافیت، جوابدہی اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی سازوں کا قائدانہ کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط قانونی فریم ورک پاکستان کو اعلیٰ سطح کی کلائمٹ فنانس معاونت حاصل کرنے میں مدد دے گا، جبکہ عوامی مفاد کا تحفظ کرتے ہوئے مقامی کمیونٹیز تک زیادہ سے زیادہ فوائد کو بھی یقینی بنائے گا۔

